انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 459

۴۵۹ جانتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کو نعوذ باللہ والدالزنا کہا گیا تھا- اور لعنتی قرار دیا گیا تھا- قرآن نے ان الزامات کی پوری تردید کی- کُتب سماویہ کی تفصیل اب میں تیسری بات بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کتب سماویہ کی تشریح اور ¶تفصیل بیان کرنے والا ہے- اس میں علوم روحانیہ کو کھول کر بیان کیا گیا ہے- اور انہیں کمال تک پہنچایا گیا ہے- میں اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں- تورات میں لکھا تھا-: ‘’تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان- آنکھ کا بدلہ آنکھ- دانت کا بدلہ دانت- ہاتھ کا بدلہ ہاتھ- اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا’‘- ۶۶؎ اور انجیل میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ-: ‘’تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ- اور دانت کے بدلے دانت- لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے- دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے- اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتہ لینا چاہئے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے- اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا’‘-۶۷؎ مگر قرآن کریم نے کہا ہے- وجزوا سیئة سیئة مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ انہ لایحب الظلمین- ۶۸؎ یعنی شرارت کے مطابق بدی کا بدلہ لے لینا تو جائز ہے- لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس میں دوسرے کی اصلاح مدنظر رکھے اللہ تعالیٰ اسے خود اجر دے گا- اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا- تورات نے ایک حصہ تو بیان کیا تھا اور دوسرا چھوڑ دیا تھا- اور انجیل نے دوسرا حصہ بیان کیا اور پہلا حصہ چھوڑ دیا- قرآن کریم نے اس تعلیم کو مکمل کر دیا- فرمایا- بدی کا بدلہ لے لینا جائز ہے- لیکن جو شخص معاف کر دے ایسی صورت میں کہ بدی نہ بڑھے اس کا اجر اللہ پر ہے- ہاں جو ایسے طور پر معاف کرے کہ معافی دینے پر ظلم بڑھ جائے تو اس سے خدا ناراض