انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 452

۴۵۲ من سلطان--۴۷؎ فرمایا- کیا تم اپنے لئے تو بیٹے قرار دیتے ہو- اور خدا کے لئے- لات‘ منات اور عزیٰ بیٹیاں- یہ کس قدر بھونڈی تقسیم ہے جو تم نے کی- یہ نام تم نے اپنے طور پر رکھ لئے ہیں- خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئے- خدا نے تو ان بتوں کے لئے اتارا ہی کچھ نہیں- کیا ان آیات کے بعد کوئی شخص ان فقروں کو درمیان میں شامل سمجھ سکتا ہے- پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل نہیں ہو سکتے- آخر کفار عربی تو جانتے تھے- اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیتیں بھی اس حصہ کو رد کر رہی ہیں- فرمایا وما تنزلت بہ الشیطین- وما ینبغی لھم وما یستطیعون- ۲۱۹؎یعنی اس میں شیطانی کلام کا اس قدر رد ہے کہ اسے شیطان اتار ہی کس طرح سکتا ہے- (۲)پھر اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا چاہیں- تو ملا ہی نہیں سکتے- کہیں کوئی عبارت کھپ ہی نہیں سکتی جو کچھ ملائیں گے- بے جوڑ ہوگا- جیسا کہ یہاں ہوا ہے- پھر آگے چل کر فرماتا ہے- ھل انبئکم علی من تنزل الشیطین- تنزل علی کل افاک اثیم- یلقون السمع و اکثر ھم کذبون- ۴۹؎کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس طرح اترتے ہیں- شیطان کا تعلق ہر افاک اور اثیم کے ساتھ ہوتا ہے- یعنی جو بڑا جھوٹ بولنے والا اور گنہگار ہو اس سے شیطان کا تعلق ہوتا ہے- مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو تم خود کہتے ہو کہ اس سے بڑھ کر سچا اور کوئی نہیں- اس کے امین ہونے کے بھی تم قائل ہو- پھر اس پر شیطان کا تصرف کس طرح ہو سکتا ہے- پھر فرماتا ہے- ان الشیطین لیوحون الی اولیئھم لیجادلو کم ۵۰؎کہ شیطان تو اپنی وحی شیطانوں کی طرف کرتا ہے تا کہ وہ تم سے جھگڑیں مومنوں کی طرف نہیں کرتا- اب دیکھو وہ روائتیں جو بیان کی جاتی ہیں رسول کریم ﷺ پر کیسا خطرناک الزام لگاتی ہیں- شیطان تو اپنے دوست کو ہی کہے گا- کہ یہ ہتھیار لے جا اور لڑ- کسی مسلمان کو وہ اپنے خلاف کس طرح بتائے گا- اسی طرح سورہ نحل رکوع۱۳ میں آتا ہے انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون- انما سلطنہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون- ۵۱؎یعنی شیطان کا مومنوں پر کوئی تسلط نہیں ہو سکتا جو خدا پر توکل رکھتے ہیں-