انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 448

انوارالعلوم جلد ۱۳ ۴۴۸ فضائل القرآن (۴) جائیں اور ایک بے فائدہ فریب میں شامل ہوں۔ پس ایسے مخلص لوگوں پر یہ اعتراض کر کے ان لوگوں نے ظلم اور اور جھوٹ سے سے کا کام لیا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ایسے لوگ ایسا جھوٹ بنا بنا سکیں۔ دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ جن کو تم پرانے قصے سمجھتے ہو وہ قصے نہیں بلکہ آئندہ کے متعلق خبریں اور پیشگوئیاں ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ - اللہ تو کہہ دے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واقف ہے۔ کوئی انسان ایسا کلام نہیں بنا سکتا۔ یہ تو غیب کی باتیں ہیں اور غیب خدا ہی جانتا ہے۔ اب ان جوابوں کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور مضبوط ہیں۔ اور وہیری کا خیال کس قدر بے معنی ہے۔ اگر یہاں بھی وہی اعتراض سورۃ نحل والا ہوتا تو اس کا وہی جواب کیوں نہ دیا جاتا جو وہاں دیا گیا ہے ۔ آخر کیا وجہ تھی کہ اگر یہی سوال سورۃ نحل میں تھا تو اس کا جواب بقول وہیری کے بیہودہ دیا جاتا۔ ایک شخص جو صحیح جواب جانتا ہے اور وہ جواب دے بھی چکا ہے اسے وہ جواب چھوڑ کر اور جواب دینے کی کیا ضرورت تھی۔ پس یہ جواب لغو نہیں بلکہ معترضین کی اپنی سمجھ ناقص ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سورۃ نحل میں یہ سوال ہی نہیں کہ کوئی اسے مضمون بنا دیتا ہے۔ بلکہ یہ ذکر ہے کہ نادان لوگ ایک ایسے شخص کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ کو سکھاتا ہے جو خود عجمی تھا۔ یعنی اپنا مفہوم اچھی طرح بیان نہیں کر سکتا تھا۔ صرف تھوڑی سی عربی جانتا تھا۔ ( عجمی کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو اپنا مفہوم اچھی طرح ادا نہ کر سکے چنانچہ لغت میں یہ معنی بھی لکھے ہیں۔) اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ دوسرے کا قول انسان دو طرح نقل کر سکتا ہے۔ ایک تو اس طرح کہ اس کا مطلب سمجھ کر اپنے الفاظ میں ادا کر دئے۔ اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اس کے الفاظ رٹ کر ادا کر دے۔ جیسے طوطا میاں مٹھو کہتا ہے ۔ نقل انہی دو طریق سے ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم جانتے ہو کہ جس شخص کی طرف تم یہ بات منسوب کرتے ہو۔ وہ اپنا مطلب عربی زبان میں پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔ پس جب وہ مطلب ہی بیان نہیں کر سکتا تو وہ رسول کریم ملی کو مضامین کس طرح سمجھاتا ہے کہ وہ عربی میں اس کو بیان کر دیتے ہیں۔ یہ جواب ہے آدھے حصے کا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اس کے قول کو نقل کیا جاتا۔ مگر یہ کس طرح ہو سکتا تھا۔ وہ تو عبرانی میں کہتا تھا اور اس کی بات اگر دہرائی جاتی تو عبرانی میں ہوتی ۔ مگر قرآن تو عبرانی یا یونانی میں الله الله