انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 444

فضائل القرآن (۴) نہیں ہے اس کی بنیاد اس امر پر ہے کہ انسان گناہ گار ہے۔ لیکن اسلام شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان نیک ہے اور اس کی فطرت میں خدا سے محبت رکھی گئی ہے نہ کہ گناہ۔ دوسرا جواب یہ دیا۔ کہ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ خدا جو تیرا رب ہے اس کی یہ شان ہے کہ دوسری چیزوں میں جو صفات پائی جاتی ہیں ان سب سے اعلیٰ صفات اس میں جلوہ گر ہیں۔ عیسائیت کہتی ہے کہ خدا میں رحم کی صفت نہیں ۔ وہ گناہگار کو نہیں بخش سکتا۔ مگر اسلام کہتا ہے۔ جب انسان اپنے قصور وار کو بخش سکتا ہے اور انسان میں عفو کی صفت ہے تو خدا کیوں نہیں بخش سکتا۔ اور اس میں کیوں یہ صفت نہیں۔ اس میں تو بدرجہ اتم یہ صفت ہے۔ کیونکہ وہ اَكْرَم ہے۔ یعنی تمام صفات حسنہ میں سب سے بڑھ کر ہے۔ تیسرا رد یہ کیا کہ فرمایا عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَم۔ عیسائیت کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ شریعت لعنت ہے ۔ لیکن قرآن نے بتایا کہ شریعت میں وہ باتیں ہیں جو انسان عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔ انسان اپنی کوشش سے شرعی احکام نہیں بنا سکتے اس لئے شریعت آتی ہے۔ چوتھی زر عیسائیت پر یہ کی کہ فرمایا كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَّاهُ اسْتَغْنَى سرکش ہے جو یہ انسان بڑا ہی سرک کا جو یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا کی شریعت کی ضرورت نہیں۔ میں خود اپنی راہنمائی کے سامان مہیا کر لونگا۔ یہ کہنے والے بہت نا معقول لوگ ہیں۔ پانچواں رویہ کیا کہ فرمایا - كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدُ وَاقْتَرِبْ ۔ ایسے لوگوں کی باتیں کبھی نہ سننا اور اللہ کی خوب عبادت اور فرمانبرداری کرنا۔ رسول کریم مسلم کو فرمایا کہ کسی راہب کی بات نہ سننا جو شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے بلکہ خدا کی فرمانبرداری میں لگا رہ۔ گویا نجات اور قرب الہی کا ذریعہ بجائے کسی کفارہ پر ایمان لانے کے سجدہ یعنی فرمانبرداری یا بالفاظ دیگر اسلام کو قرار دیا ہے۔ پس قرآن کی تو پہلی سورۃ نے ہی مسیحیت کو رد کیا ہے اور بادلیل رد کیا ہے۔ اس طرح سورۃ فاتحہ میں عیسائیت اور یہودیت کو رد کیا گیا ہے۔ پھر کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی اپنے مذہب کے خلاف خود دلا کل بتایا کرتے تھے۔ روہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو عیسائی راہب اپنے مذہب کو ماننے والا ہو گا۔ یا نہ ماننے والا۔ اگر ماننے والا تھا تو اسے چاہئے تھا کہ اپنے مذہب کی تائید کرتا۔ نہ کہ اس کے خلاف باتیں بتاتا۔ اور اگر نہ ماننے والا تھا اور سمجھتا تھا کہ جو باتیں اس کے ذہن میں آئی ہیں وہ اعلیٰ درجہ کی ہیں تو اس نے ان کو خود اپنی