انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 445

۴۴۵ طرف منسوب کر کے کیوں نہ پیش کیا- اسے چاہئے تھا کہ اپنے نام پر کتاب لکھتا نہ کہ لکھ کر دوسرے کو دے دیتا- اب میں ان آیتوں اور ان میں مذکور جوابات کو لیتا ہوں- سورہ نحل کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اسے کوئی اور آدمی سکھاتا ہے- اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ وہ شخص تو عجمی ہے اور قرآن کی زبان عربی ہے- وہیری کہتا ہے کہ یہ جواب بالکل بودا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے- مضمون وہ عجمی بنا کر دیتا تھا- آگے عربی میں وہ خود ڈھال لیتے تھے- لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کے دوسرے جواب بھی ایسے ہی بودے ہوتے ہیں- اگر قرآن کی دوسری باتیں ارفع اور اعلیٰ ہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہ جواب بھی ضرور اعلیٰ ہوگا- اور جو مطلب ہم سمجھتے ہیں وہ غلط ہوگا- دوسرے اگر یہ جواب بے جوڑ تھا تو کیوں مکہ والوں نے اسے رد نہ کر دیا اور کیوں وہیری والا جواب انہوں نے نہ دیا ان کا تو اپنا اعتراض تھا اور وہ اپنے اعتراض کا مطلب وہیری وغیرہ سے بہتر سمجھتے تھے- وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ تو بے معنی جواب ہے- مگر کسی ضعیف سے ضعیف روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ مکہ والوں نے کہا ہو- یہ جواب بے جوڑ ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جو اعتراض تھا اس کا جواب انہیں صحیح اور مسکت مل گیا تھا- اسی لئے وہ خاموش ہو گئے- اب رہا یہ امر کہ اچھا پھر سوال و جواب کا مطلب کیا تھا- تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں کفار کا سوال ایک نہ تھا بلکہ دو تھے اور ان سوالوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی قرآنی جواب کو بے جوڑ قرار دے دیا گیا ہے- ان میں سے ایک کا ذکر سورۃ نحل میں ہے اور دوسرے کا سورۃ فرقان میں- سورۃ نحل کا وہ سوال نہیں جو سورۃ فرقان کا ہے- اور سورۃ فرقان میں وہ نہیں جو سورہ نحل میں ہے- چنانچہ سورۃ نحل میں یہ اعتراض نقل ہے کہ ایک عجمی شخص آپﷺ کو سکھاتا ہے- قرآن کریم نے اس کا نام نہیں لیا- مگر یہ کہا ہے کہ لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی *۴۰؎کہ وہ جس کی طرف قرآن کو منسوب کرتے ہیں وہ عجمی ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کسی خاص شخص کا نام لیتے تھے- پھر یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ شخص معروف تھا اور مسلمان بھی اس شخص کا نام جانتے تھے- سورۃ فرقان کی آیت اس سے مختلف ہے- اس میں بتایا گیا ہے کہ کفار کسی خاص آدمی