انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 437

۴۳۷ ایک نے بتائی تھی- مولوی صاحب نے ایک دفعہ پردہ میں بیٹھ کر ایک ارڑپوپو کو اپنا ہاتھ دکھایا- اس نے آپ کو عورت سمجھ کر خاوند کے متعلق باتیں بتانی شروع کر دیں- جب وہ بہت کچھ بیان کر چکا تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنی داڑھی اس کے سامنے کر دی- یہ دیکھ کر وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا- اور پھر کبھی اس محلہ میں نہیں آیا- غرض کاہنوں کی خبریں محض خبریں ہی ہوتی ہیں کہ فلاں کے ہاں بیٹا ہوگا- فلاں مر جائے گا ان میں خدا تعالیٰ کی قدرت کااظہار نہیں ہوتا- مگر محمد رسول اللہ ﷺ جو خبریں بتاتے ہیں ان کو کاہنوں والی خبریں نہیں کہا جا سکتا- یہ تو ایمان کو تازہ کرنے والی اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے والی ہیں- رسول کہتا ہے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں جو میرا مقابلہ کرے گا وہ ناکام رہے گا- اور جو مجھے مان لے گا جیت جائے گا- مگر کوئی کاہن یہ نہیں کہہ سکتا- پس اللہتعالیٰ فرماتا ہے- ولا بقول کاھن قلیلا ما تذکرون یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کاہن کا قول ہے- ان کی عقل ایسی ماری گئی ہے- کہ اتنی پیشگوئیاں سنتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی قدرت اور جبروت کا اظہار ہے- مگر پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے- دوسرا ردّ اس کا یہ فرمایا- فلا اقسم بما تبصرون- ومالا تبصرون- انہ لقول رسول کریم- وما ھو بقول شاعر قلیلا ما تومنون- ولا بقول کاھن قلیلاماتذکرون- تنزیل من رب العلمین- ولو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منہ بالیمین- ثم لقطعنا منہ الوتین- فما منکم من احد عنہ حجزین- ۳۲؎یعنی ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس کو بھی جسے تم دیکھتے ہو اور اس کو بھی جسے تم نہیں دیکھتے- یعنی اس کے ظاہری اور باطنی دونوں حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ قرآن ایک عزت والے رسول کا کلام ہے- ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بات میں کاہن اور شاعر دونوں مشترک ہوتے ہیں- شاعر بھی بڑے بڑے جذبات کا اظہار کرتا ہے- اور سب کچھ بیان کرنے کے بعد ہاتھ پھیلا دیتا ہے- اسی طرح کاہن بھی خبریں بتا کر مانگتا پھرتا ہے- مگر فرمایا یہ رسول تو ایسا ہے جو اپنے پاس سے خرچ کرتا ہے- کاہن تو دوسروں سے مانگتا ہے- یہاں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کو رسول کریم ﷺ کا کلام قرار دیا گیا ہے- یہاں رسول کہہ کر اس شبہ کو رد کر دیا ہے- اور بتایا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں کیونکہ رسول وہی ہوتا ہے جو دوسرے کا پیغام لائے اگر محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے بیان کرتا تو آپ