انوارالعلوم (جلد 12) — Page 434
۴۳۴ وقال الذین لایرجون لقاء نالولا انزل علینا الملئکة او نری ربنا لقداستکبروا فی انفسھم وعتو عتوا کبیرا- یوم یرون الملئکة لا بشری یومئذللمجرمین ویقولون حجرا محجورا- وقدمنا الی ماعملوا من عمل فجعلنہ ھباء منثورا- اصحب الجنہ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا- ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملئکة تنزیلا- الملک یومئذ ن الحق للرحمن وکان یوما علی الکافرین عسیرا-۲۵؎ یعنی یہ نادان کہتے ہیں کہ یہ مسحور ہے اور ثبوت یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمیں کیوں فرشتے نظر نہیں آتے- ہمیں کیوں خزانے دکھائی نہیں دیتے- لولا انزل علینا الملئکةہم پر وہ فرشتے کیوں نہیں اترتے جن کے متعلق یہ کہتا ہے کہ مجھ پر اترتے ہیں- او نری ربنا یا یہ کہتا ہے کہ میں اپنے رب کو دیکھتا ہوں- ہمیں وہ کیوں نظر نہیں آتا- یہ جاہل خیال کرتے ہیں کہ ہمیں چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے یہ جو ان کے دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو مسحور ہے- مگر یہ اپنے نفسوں کو نہیں دیکھتے- کیا ایسے گندوں کو خدا نظر آ سکتا ہے- انہوں نے بڑی سرکشی سے کام لیا ہے- یوم یرون الملئکة لابشری یومئذ للمجرمین- ان کو بھی فرشتے نظر آئیں گے مگر اور طرح- جب انہیں فرشتے نظر آئیں گے تو یہ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے اور کہیں گے کہ کاش یہ ہمیں دکھائی نہ دیتے- اس دن مجرموں کے لئے خوشخبری نہیں ہوگی- بلکہ یہ گھبرا کر کہیں گے کہ ہم سے پرے ہی رہو- اسی طرح ہم بھی ان کو نظر تو آئیں گے مگر انعام دینے کیلئے نہیں بلکہ قدمنا الی ماعملوا من عمل فجعلنہ ھباء منثورا- ہم ان کو تباہ کرنے کیلئے ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہونگے اور ان کی حکومت کو باریک ذروں کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے- اور وہ جن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایک مسحور کے پیچھے چل رہے ہیں- ان کے لئے وہ بڑی خوشی کا دن ہوگا- اصحب الجنہ یومئذ خیر مستقر واحسن مقیلا- ان کو نہایت اعلیٰ جگہ اور آرم دہ ٹھکانا ملے گا- اس کی آگے تفصیل بیان کی ہے- کہ یوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملئکة تنزیلا-اس دن آسمان سے بارش برسے گی- اور بہت سے فرشتے اتارے جائیں گے- جیسے بدر کے موقع پر ہوا- الملک یومئذ الحق للرحمن- اس دن مکہ کی حکومت تباہ کر دی جائے گی- اور حکومت محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں دے دی جائے گی- وکان یوما ً