انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 424

۴۲۴ کس طرح اس میں کچھ داخل کر سکتے ہیں- رسول کریم ﷺ اپنی طرف سے تو الگ رہا خدا تعالیٰ کی دوسری وحی کو جو رؤیا اور کشف کی شکل میں ہوتی یا جس کے ذریعہ کوئی مفہوم دل میں ڈالا جاتا وہ بھی اس میں شامل نہ کرتے تو ہم کس طرح اس وحی میں کچھ شامل کر سکتے ہیں- لیکن پہلے انبیاء چونکہ اپنی تشریحات‘ رؤیا‘ کشوف اور تفہیمات اپنے الفاظ میں درج کرتے تھے اس لئے ان کے پیرؤں کو اپنی تفہیمات درج کر دینے کی بھی جرات ہو گئی- محققین بائیبل کا بھی یہی خیال ہے کہ صحف قدیمہ میں جو اضافہ ہوا- وہ اس طرح ہوا کہ جو بات کسی کو سوجھی وہ اس نے اس میں لکھ دی- لیکن قرآن کریم چونکہ خالص کلام اللہ ہے- رسول کریم ﷺ اپنے دوسرے الہامات یا کشوف یا رؤیا یا تفہیم اس میں داخل ہی نہ کرتے تھے- جس کا اثر صحابہؓ پر گہرا پڑا- اور وہ محسوس کرتے تھے- کہ اس کتاب میں کوئی اور بات نہیں ہونی چاہئے- حتیٰ کہ طرز تحریر اور وقف تک کو انہوں نے محفوظ رکھا- اور اس طرح بوجہ کلام اللہ ہونے کے قرآن کریم ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا- یہ امر کہ قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا اثر اس کے تبدیل نہ ہونے پر خاص طور پر پڑا ہے مخالفوں تک نے تسلیم کیا ہے- چنانچہ سرولیم میور لکھتا ہے- ‏the of feelings the in existed guarantee similar A deeply more was principle no soul whose in large, at supposedpeople the for reverence awful an than rooted۹؎۔God of word یعنی قرآن کریم کے محفوظ رہنے کی یہ بھی گارنٹی ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں یہ بات نقش تھی کہ قرآن کا ہر شوشہ اور ہر لفظ خدا کی طرف سے ہے- دوسرا فائدہ کلام اللہ کے اس طرح جمع کرنے کا یہ ہوا کہ اس میں تاریخ اور تفہیم آ ہی نہیں سکتی- مثلاً قرآن میں یہ نہیں لکھا- کہ میں فلاں جگہ گیا اور وہاں یہ الہام ہوا- بلکہ اس کی عبارت اس طرح چلتی ہے کہ ہر لفظ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے- اس لئے بندہ اس میں کوئی اور کلام داخل ہی نہیں کر سکتا- اور اگر کرے تو بالکل بے جوڑ معلوم ہوگا- لیکن پہلی کتب میں چونکہ تفہیم بھی درج تھی اس لئے کسی کا تفہیم کو درج کرنا غلطی کو ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا-