انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 423

۴۲۳ تعالیٰ کی طرف سے ہیں- یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے سوا اور کوئی ایسی کتاب نہیں جس کے الفاظ سے نئے نئے مضامین نکلتے چلے آئیں- صرف قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے مطالب کبھی ختم نہیں ہوتے- رات دن قرآن کریم کو پڑھو- قرآن کے حقائق کبھی ختم نہ ہونگے- اس کی حکمتیں نکلتی چلی آتی ہیں اور ہر لفظ پر حکمت معلوم ہوتا ہے- پرانے زمانہ کی کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک تھیلی ہوتی تھی جس میں سے ہر قسم کے کھانے نکلتے آتے تھے- مگر یہ تو وہمی اور خیالی بات تھی- قرآن کریم واقع میں ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا- اس کی جگہ دوسری کتب میں یہ بات نہیں- مثلاً مسیحی وغیرہ خود اقرار کرتے ہیں کہ اصل عبارتوں میں غلطیاں ہو گئی ہیں- میرا یہ مطلب نہیں کہ پہلے انبیاء پر کلام اللہ نازل نہیں ہوتا تھا- بلکہ یہ ہے کہ ان کا سب دین اور سب کتاب کلام اللہ میں محصور نہ ہوتے تھے- پہلی کتب میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی کتب کے بگڑنے کا موجب بھی یہی ہوا کہ وہ کلام اللہ نہ تھیں- چونکہ ان میں خود انبیاء کی تشریحات اور رؤیا اور کشوف اور تفہیمات ان کے الفاظ میں ہوتے تھے اس لئے لوگوں کے دلوں میں حفاظت کا اس قدر گہرا خیال نہیں ہو سکتا تھا- جب حضرت موسیٰؑ کے صحابیوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰؑ پر وحی ہوئی جو انہوں نے لکھوا دی اور ساتھ ہی اپنا رؤیا اور کشف بھی لکھا دیا- ساتھ ہی یہ بھی لکھوا دیا کہ مجھے یہ خیال آیا جو الہامی خیال ہے تو ایسی باتوں سے ان کو جرات ہوئی کہ جو بات توریت سے انہیں سوجھتی اسے بھی اس میں داخل کر دیتے- اور وہ خیال کرتے کہ اگر ہم نے اپنی تفہیم بطور یادداشت لکھ دی تو کیا حرج ہوا اور چونکہ ہر شخص اپنی تفہیم کو صحیح سمجھتا ہے- اس لئے وہ اسے خدائی امر ہی سمجھتے تھے- اس طرح وہ کتب بگڑ گئیں- حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو نبی کی تفہیم الہامی ہونے کی وجہ سے کتاب کا حصہ تھی- مگر ان کی نہیں- بلکہ اگر کسی دوسرے کی الہامی تفہیم بھی ہو تب بھی وہ پہلے نبی کی تفہیم کی طرح اس کتاب کا حصہ نہیں کہلا سکتی- اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کے صحابہؓ نے دیکھا کہ جب وہ آپ کے پاس آتے تو آپ فرماتے- آج خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی ہے- صحابہؓ کہتے لکھ لیں- آپﷺ فرماتے لکھ لیا جائے- پھر فرماتے یہ کشف ہوا ہے یہ رؤیا تھی- آپﷺ اس کا مفہوم بیان فرماتے اور کہتے یہ وحی میں نہ لکھا جائے- جب صحابہؓ دیکھتے کہ رسول کریم ﷺ خود بھی وحی میں کچھ نہیں بڑھا سکتے تو وہ سمجھتے کہ ہم