انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 399

انوار العلوم جلد ۱۴ ۳۹۹ بعض ضروری امور کئی تنخواہ کا فیصلہ ہو چکا تھا زمیندار اپنے کھانے کیلئے بھی غلہ گھر نہ لا سکتے تھے اور سرکاری مالیہ میں دے دینے پر مجبور تھے اس تحریک کا کامیاب ہونا بہت مشکل تھا مگر خدا تعالیٰ کے کام انسانوں کے خیالات کے ماتحت نہیں ہوتے۔ چنانچہ اس تحریک کا نتیجہ ایسا خوشکن نکلا کہ جو لوگ اس کے متعلق مایوسی رکھتے تھے وہ تو الگ رہے جو امید رکھتے تھے ان کی امیدوں سے بھی بہت بڑھ کر ہے۔ اس وقت تک اس مد میں ایک لاکھ ۳۵ ہزار روپیہ آچکا ہے اور ابھی کئی دوستوں کے وعدے باقی ہیں کیونکہ بعض معذوریوں کی وجہ سے انہوں نے مقررہ میعاد کے بعد ادا کرنے کی مہلت مانگی ہے۔ اس چندہ کی وجہ سے ۷۲ ہزار روپیہ قرض جو بلوں کی رو سے تھا (اس کے علاوہ کچھ اور بھی قرض ہے) یہ بل قریباً قریباً ادا ہو گئے ہیں اور شاید چار پانچ ہزار کے بل باقی ہوں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس مہینہ کے ختم ہونے تک یہ بھی ادا کر دیئے جائیں گے۔ علاوہ اس کے تین چار ماہ کا خرچ بھی ادا کر دیا گیا ۔ جلسہ سالانہ کا خرچ بھی اسی چندہ سے نکلا۔ یہ ہماری جماعت کی قربانی موجودہ زمانہ میں ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ اس پر جتنا بھی خدا تعالیٰ کا شکر کریں کم ہے۔ ایسے حالات میں کہ ہماری جماعت کے لوگ مالی تنگی میں مبتلاء تھے خدا تعالیٰ کی راہ میں جو قربانی انہوں نے کی ہے اس کی وجہ سے وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کیلئے خاص طور پر دعا کی جائے۔ (اس کے بعد حضور نے جنوری کے پہلے ہفتہ کی جمعرات کے دن روزہ رکھنے اور دعا کرنے کا وہ اعلان فرمایا جو گذشتہ پرچہ میں درج ہو چکا ہے اور پھر فرمایا) ضروری نصیحت میں آئندہ کے متعلق جماعت کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ مجلس مشاورت کے نمائندے سلسلہ کے کارکن اور نظار میں کوشش کریں کہ آئندہ ہم پر قرض نہ ہو۔ میں نے اپنی ذات کے متعلق دیکھا ہے۔ چونکہ سلسلہ کے تمام کاموں کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے اس لئے قرضہ کی وجہ سے ہر شخص جو تنگی اور تکلیف محسوس کرتا ہے اس کا مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ اس وجہ سے میری صحت درست نہیں رہ سکتی۔ میں امید کرتا ہوں کہ کارکن بجٹ ایسا بنا ئیں گے کہ سلسلہ پر قرض کا بار نہ ہو۔ جس حد تک خدادے اس سے زیادہ قرض لے کر خرچ نہیں کرنا چاہئے۔ مجلس شوری کے ممبروں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ بجٹ کے موقع پر یہ بات مد نظر رکھیں۔ مگر اس کے ساتھ ہی میں ایک نصیحت یہ بھی کرنی چاہتا ہوں کہ جو قوم ایک دفعہ پیچھے بہتی ہے وہ پیچھے ہی بہتی جاتی ہے۔ پس