انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 392

۳۹۲ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۱ء شرک کرتے ہیں- حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کلمہ میں رسول کریم ﷺ کے نام کا شامل ہونا اور آپ کو عبدہ و رسولہ کہنا یہ بتانے کیلئے ہے کہ آپ خدا کے بندے ہیں- پس کلمہ میں آپ کے نام کا اشتراک توحید کے قیام کیلئے ہے نہ کہ توحید کے خلاف- اسی طرح قادیان کو ارض حرم قرار دینا مکہ کی ہتک کیلئے نہیں بلکہ اس کی عظمت اور تقدس کے اظہار کیلئے ہے- جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ لوگ ارض حرم کی طرف حقیقی طور پر توجہ نہیں کرتے اور اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھاتے چنانچہ ہندوستان سے ہی مسلمانوں کا وہ طبقہ جسے حج کیلئے جانا چاہئے نہیں جاتا اس کی بجائے مفلس‘ کنگال اور بھوکے مرتے ہوئے لوگ جن کیلئے حج پر جانا فرض نہیں‘ جاتے ہیں- جس کے یہ معنی ہیں کہ ۸۸ فیصدی ایسے لوگ حج کیلئے جاتے ہیں جن پر جانا فرض نہیں- دس فیصدی ایسے ہوتے ہیں جن کے متعلق احتمال ہو سکتا ہے کہ ان پر فرض ہوگا باقی ایک دو فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کیلئے حج فرض ہوتا ہے اور وہ لوگ جن پر حج فرض ہے‘ وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں- تو خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بتانے کے لئے یہاں ہندوستان میں ایک مقام مکہ کا مثیل بنایا اور کہا اس کو دیکھو کس طرح اس میں اللہ کا ذکر ہوتا اور اس کے دین کی عظمت بیان کی جاتی ہے- اس میں اخلاص کے ساتھ آنے والوں کو کس قدر روحانی برکات حاصل ہوتی ہیں- جب مثیل کو اتنی عظمت اور اتنی برکت حاصل ہے تو اس کے اصل کو کیسی برکت اور تقدیس حاصل ہوگی اور اسے خدا نے کس قدر برکت والا بنایا ہے- غرض ان لوگوں کو شرمندہ کرنے اور توجہ دلانے کیلئے جو حج کا فرض ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہوئے ادا نہیں کرتے قادیان کو عظمت عطا کی ایسے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے حج نہیں کیا- مگر ان لوگوں کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک سپاہی کسی ضروری کام کیلئے جا رہا تھا- کسی نے اسے آواز دی ذرا ادھر آنا نہایت ضروری کام ہے- جب وہ گیا تو بلانے والا اسے کہنے لگا میری چھاتی پر بیر پڑا ہے اسے اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو- اس پر سپاہی کو بہت غصہ آیا کہ اس نے کیوں میرا وقت ضائع کیا- پاس ہی ایک دوسرا شخص لیٹا ہوا تھا اس نے کہا آپ اس پر غصے کیوں ہوتے ہو اس کی تو یہی حالت ہے ساری رات کتا میرا منہ چاٹتا رہا مگر یہ ایسا سست ہے کہ ہش تک نہ کر سکا- یہی حال ان معترضین کا ہے- وہ جو میدان جنگ میں کھڑا کفر کا مقابلہ کر رہا تھا اس کے متعلق کہتے ہیں اس نے حج نہیں کیا مگر آپ آرام و آسائش کی زندگی بسر کرتے ہوئے حج کو نہیں