انوارالعلوم (جلد 12) — Page 391
۳۹۱ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۱ء والسلام نے فرمایا ہے- زمینِ قادیان اَب محترم ہے ہجوم ِخلق سے ارضِ حرم ہے نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں قادیان کو مکہ بنا دیا گیا- مگر یہ عجیب بیوقوفی کی بات ہے کہ خود مکہ کی مسجد کی نقل میں مسجد تعمیر کرتے اور اس میں عبادت کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ چونکہ مکہ کے بیت اللہ کی نقل ہے اس لئے یہ بھی بیت اللہ ہے گویا اپنی بنائی ہوئی مسجد کو تو بیت اللہ کہتے ہیں- مگر خدا تعالیٰ کے بابرکت بنائے ہوئے مقام کو ارض حرم جیسا کہنے پر اعتراض کرتے ہیں- آپ تو ہر جگہ کی مسجد کو وہی نام دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے ایک خاص مقام کو دیا ہے اور اسے بیت اللہ کہا ہے- لیکن اللہ تعالیٰ ایک مقام کو اس کا مثیل قرار دیتا ہے اسے اپنی خاص برکات کا مورد بناتا ہے اس میں اپنے انوار نازل کرتا ہے مگر اس کے متعلق کہتے ہیں اسے اس مقام کا مثیل نہ کہا جائے- حالانکہ مثیل ہونا ایسا مسئلہ ہے جسے اسلام میں پیدا ہونے والے صوفیاء نے بہت اہمیت دی ہے اور یہاں تک قرار دیا ہے کہ انسان کو چاہئے اللہتعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرے- چنانچہ تمام صوفیاء کہتے آئے ہیں تخلقوا باخلاق اللہ ۲؎کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو- اس بات پر تو کوئی اعتراض نہیں کرتا اور اسے درست تسلیم کیا جاتا ہے لیکن قادیان کو ارض حرم کا مثیل قرار دینے پر معترض ہوتے ہیں- گویا ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کی صفات انسان کے اندر پیدا ہونا تو جرم نہیں لیکن قادیان کا مکہ کی مثیل ہونا جرم ہے مگر یہ جہالت ہے- جو رسول کریم ﷺ سے بعد اور قرآن کریم کا مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے‘ رسول کریم ﷺ کے ارشادات اور آپ کے مقربین کے اقوال کا مطالعہ نہ کرنے کے باعث پیدا ہوئی ہے- حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق جذب کرنے سے جس طرح انسان مکرم معظم بن جاتا ہے اسی طرح مکہ کے صفات جذب کر کے ایک مقام بھی متبرک اور مقدس بن جاتا ہے اور مکہ کی طرف اس مقام کے متبرک ہونے کی نسبت دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسے مستقل نہ سمجھا جائے بلکہ مکہ کے تابع سمجھا جائے- پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مکہ جو اصل ارض حرم ہے اس کے یہ تابع ہے تو اس پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض نادان کہتے ہیں کلمہ شہادت میں رسول کریم ﷺ کا نام لینا شرک ہے اور مسلمان اشھدان لا الہ الا اللہ کے ساتھ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ کہہ کر