انوارالعلوم (جلد 12) — Page 371
۳۷۱ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف کوتاہی ہوتی تو ڈاکٹر خود کہہ دیتا کسی طبیب سے بھی مشورہ کر لو اور طبیب ڈاکٹر کے پاس جانے کی رائے دیتا لیکن حالت یہ ہے کہ مریض خواہ مر جائے‘ ہر ایک اپنی سائنس کو ہی برتر ثابت کرنے کی فکر میں رہتا ہے- مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ ہے کہ بندوں کا فائدہ ہو- یہ نہیں کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم ہے تو خواہ ٹانگیں سوکھ جائیں‘ ضرور کھڑے ہی ہو کر پڑھو بلکہ بیٹھ کر بلکہ ضرورت کے وقت لیٹ کر بھی پڑھ سکتے ہو- پھر یہ نہیں کہ ضرور سال میں پچاس روپیہ صدقہ کرو- اگر نہیں تو پچیس‘بیس‘ پندرہ‘ دس جس قدر توفیق ہو کر سکتے ہو- اگر بالکل توفیق نہ ہو تو دل کی نیکی ہی کافی ہے- غرضیکہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ تم بھی بدل سکتے ہو- میں اس وقت تفصیلات چھوڑتا ہوں- آپ نے روزہ‘ حج‘ زکٰوہ وغیرہ سب کیلئے ALTERNATIVES رکھے ہیں- صدقہ اور جہاد وغیرہ احکامات کے بغیر بھی انسان خدا تعالیٰ کو راضی کر سکتا ہے- ایک دفعہ آپ جہاد پر جا رہے تھے اور فرمایا بعض لوگ ایسے ہیں جو اگرچہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں- مگر ہم کسی وادی میں نہیں ہوتے مگر وہ ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور وہ ثواب میں برابر ہمارے شریک ہیں- صحابہ نے عرض کیا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تکالیف ہم اٹھائیں اور وہ ثواب میں ہمارے شریک ہو جائیں- آپ نے فرمایا یہ وہ لولے‘ لنگڑے‘ اندھے اور معذور لوگ ہیں جو عدم شمولیت کی وجہ سے دلوں میں بے حد ملول ہیں- اللہ تعالیٰ انہیں ثواب سے محروم نہیں رکھناچاہتا-۳۷؎ غرض آپ کی تعلیم میں ہر انسان اور اس کی ہر حالت کا علاج موجود ہے- یہ نہیں کہ خواہ کیسی مصیبت ہو ایک خاص اصول کی پیروی ضروری ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ انسان کی نجات مقصود ہے- پانچویں بات یہ فرمائی- بالمومنین روف رحیم دنیا میں ایک مرض یہ ہے کہ جب کوئی شخص دنیا پر یا کسی خاص قوم پر کوئی احسان کرتا ہے تو پھر وہ توقع رکھتا ہے کہ لوگ میرا شکریہ ادا کریں‘ میری قدر کریں اور کہیں کہ آپ نے بڑا احسان کیا- مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بجائے ایسی امید اور توقع کے یہ رسول جو لوگ اس کی بات مانتے ہیں یہ خود ان کی خدمت کرتا ہے‘ احسان کر کے خود ممنون ہوتا ہے‘ شکر کے مواقع پیدا کر خود مشکور ہوتا ہے اور اس مقام پر وہی شخص کھڑا ہو سکتا ہے جو خود بڑائی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ رسول ہو اور خدا کی طرف سے مجبور کر کے اس مقام پر کھڑا کیا گیا ہو- افسوس ہے کہ اس وقت میں زیادہ تفصیل سے نہیں بول سکتا کیونکہ ایک تو کمزوری