انوارالعلوم (جلد 12) — Page 372
۳۷۲ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف محسوس ہونے لگی ہے اور دوسرے میں دیکھتا ہوں دھوپ بھی زرد ہوتی جا رہی ہے اور وقت زیادہ ہو گیا ہے- پھر کئی ایک باتیں میں بیان کر چکا ہوں اور میرا خیال ہے کئی لوگ اس پر مزید غور کر کے اور نکات بھی نکال سکتے ہیں- اگر کسی کے دل میں یہ تحریک یعنی اور غور کر کے نئی باتیں پیدا کرنے کی طرف توجہ ہو جائے تو یہ بھی بہت کامیابی ہے- وگرنہ پھر کبھی اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو خود ہی کسی موقع پر بیان کروں گا-خاتمہ پر ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں کہ اختلاف دنیا سے کبھی مٹ نہیں سکتا- اور جب تک مسلمان اس کوشش میں رہیں گے کہ اختلاف مٹا کر صلح کریں‘ وہ کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے- صلح اسی اصول پر ہو سکتی ہے جو رسول کریم ﷺ نے سکھایا ہے کہ اختلافات کو قائم رکھ کر صلح کرو- پس اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ مسلمانوں کو چاہیئے متحدہ امور میں اکٹھے ہو جائیں کیونکہ کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے- (الفضل ۲۴-نومبر و ۶-دسمبر ۱۹۳۱ء) ۱؎مسند احمد بن حنبل جلد۵ صفحہ۲۰۷ مکتبہ اسلامیہ- بیروت- پر یہ الفاظ ہیں ‘’الاشققت عن قلبہ’‘ ۲؎بخاری کتاب الجھاد والسیر باب ان اللہ یوید الدین بالرجل الفاجر ۳؎التوبہ: ۱۲۸ ۴؎گیا- ہندوستان کا تجارتی شہر- یہاں کا وشنو مندر قابل ذکر ہے- بودھ گیا جو گوتم بدھ کے نروان کا مقام تھا قریب ہی ہے- (اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۲ صفحہ۱۲۹۹ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) ۵؎الکھف : ۱۱۱ ۶؎تاریخ الامم والملوک لابی جعفر محمد بن جرید الطبری جلد۲ صفحہ۳۶۶ دارالفکر بیروت ۱۹۸۷ء ۷؎السیرہ النبویہ لابن ھشام الجزء الاول صفحہ۱۴۲ مصطفی البابی الحلبی مصر ۱۹۳۶ء ۸؎السیرة النبویہ لابن ھشام الجزء الاول صفحہ۱۳۵‘۱۳۶ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ