انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 370

انوار العلوم جلد ۱۴ ٣٧٠ بی کریم میم کے پانچ عظیم الشان اوصاف الله صل بڑھا ہوا ہو۔ غور کرو! کتنا عظیم الشان اعلان ہے۔ چند ایک جملے ہیں مگر تمام پست اقوام کو پستی سے نکال کر بلند ترین مقام پر کھڑا ہونے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے۔ آج بھی ان اقوام سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص یہاں موجود ہو تو میں اسے کہوں گا کہ تمہاری تکلیف بھی محمد رسول اللہ مل سے نہ دیکھی گئی اور آپ کا دل دُکھا اور آپ نے تمہاری آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔ بعض اقوام قابلیت کے لحاظ سے اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھتی ہیں اور دوسروں کو اپنے سے ادنی و حقیر۔ مثلاً آج کل امریکہ والے اپنے آپ کو SUPER MAN سمجھتے ہیں۔ آپ نے اس تکلیف سے بھی روکنے کا انتظام کیا اور فرمایا لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ ٣٦ یعنی کوئی قوم اپنی ترقی کی وجہ سے دوسری کو کمتر نہ سمجھے بالکل ممکن ہے کل وہ گر جائے اور دوسری بڑھ جائے کیونکہ یہ سلسلہ دنیا میں ہمیشہ جاری ہے۔ آج کوئی قوم ترقی کرتی ہے اور کل کوئی اس لئے ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھو۔ غرض ایسی اعلیٰ درجہ کی مساوات قائم کی کہ دنیا جس ذلت میں پڑی تھی اس سے اسے چھڑا دیا۔ اور یہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ کی صفت کا ظہور ہے ۔ چوتھی بات آپ کے متعلق یہ فرمائی کہ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ زبردست ست امتیاز ہے۔ دنیا میں عام دستور ہے کہ لوگ ایک اصول کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ دوسروں کو اس سے فائدہ ہو گا یا نقصان ۔ آج کل طبیب لوگ ڈاکٹروں کی تحقیر کرتے ہیں اور ڈاکٹر اطباء کی مذمت ہو میو پیتھک والے ایلو پیتھی کو بُرا کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جب خدا نے بعض چیزوں میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں کہ ذرا سی دوا سے فائدہ ہو جائے تو یہ لوگ انسان کے دشمن ہیں جو اتنی بڑی بڑی DOSES دیتے ہیں انہوں نے دنیا کی صحت کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ اور یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالٰی نے سب چیزوں میں فوائد رکھے ہیں۔ لالہ لاجپت رائے کی صحت خراب تھی۔ انہوں نے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے علاج کرایا ۔ کوئی فائدہ نہ ہوا آخر حکیم نابینا صاحب سے علاج کرایا اور انہیں شفا ہو گئی۔ اسی طرح ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو پتھری تھی۔ انہیں بھی ڈاکٹروں کے علاج سے صحت نہ ہوئی اور حکیم نابینا صاحب کے علاج سے وہ صحت یاب ہو گئے۔ پھر بعض مریض ایسے ہیں کہ طبیب سالہا سال علاج کرتے رہے مگر آرام نہ ہوا اور ڈاکٹری علاج سے دنوں میں فائدہ ہو گیا۔ اگر انسان کی زندگی کی قدر ان لوگوں کے مد نظر ہوتی تو چاہئے تھا اپنے اپنے اصل کے ہی پیچھے نہ پڑے رہتے بلکہ اگر ڈاکٹری علاج میں کوئی