انوارالعلوم (جلد 12) — Page 368
انوار العلوم جلد ۱۴ ۳۶۸ نبی کریم ملی ایم کے پانچ عظیم الشان اوصاف لم نہیں بلکہ یہ عزت سے نکلا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہیں بڑی چیز دیکھنا چاہتا ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ کس طرح غیر قوموں کی تکلیف کے متعلق بھی آپ کو خیال رہتا تھا اور اس طرح اپنوں کو اخلاق کے بلند مقام پر آپ دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی سے حضرت ابو بکر کی گفتگوه ہو رہی تھی۔ اس نے حضرت موسیٰ کو آ حضرت موسیٰ کو آنحضرت میں تعلیم پر فضیلت دی پر فضیلت دی اور آپ نے اسے تھپڑ مار دیا ۔ وہ شکایت لے کر آنحضرت ملی ہم کے پاس آیا۔ آپ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا مجھے یونہی دو دوسروں پر فضیلت نہ دیا نہ دیا کرو ۔ ۲۷ بعض نادان کہتے ہیں یہ پہلا زمانہ تھا جب آپ واقعی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ سے اف موسیٰ سے افضل نہ سمجھتے تھے حالانکہ یہ سرا سر غلط ہے۔ آپ کو پہلے دن سے ہی اپنے مقام اور ا اور افضل ہونے کا علم تھا۔ اس میں تھا۔ اس میں تو آپ نے اپنی امت نے اپنی امت کو سبق دیا ہے کہ ایسی باتیں نہ کیا کرو جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔ دیکھو کس قدر دوسروں کے احساسات کا احترام مد نظر ہے۔ آپ نے بتایا کہ میری فضیلت کا اظہار وعظ و نصیحت کے طور پر کیا کرو لڑائی کے وقت یا غصہ کی حالت میں نہ کرو۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دوسروں کے بزرگوں کی عزت کرو اور ان کی مذمت نہ کیا کرو ۔ ۲۸ بلکہ قرآن نے تو غیر اللہ معبودوں کو بھی گالی دینے سے منع فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوَّ ا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۲۹، یعنی دوسروں کے بتوں کو بھی بُرا نہ کہا کرو کیونکہ ا وہ نادانی سے خدا کو بُرا کہہ کر خواہ مخواہ عذاب کے پنجے میں گرفتار ہوں گے۔ کس قدر انصاف کا خیال ہے۔ پھر غیر یعنی دشمن سے سلوک یہ ہے کہ فرمایا لڑائی میں بھی انصاف کیا کرو۔ جتنی تعدی دو سرا تم پر کرتا ہے تم بھی اتنی ہی کرو، اس سے زیادہ نہ کرو۔ اور جب دوسرا صلح کی درخواست کرے تو خواہ لڑائی تمہارے ہی حق میں ہو فورا صلح کر لو اور تاریخ میں کوئی مثال ایسی نہیں کہ کسی نے مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی ہو اور انہوں نے انکار کر دیا ہو ۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت علیؓ نے مسودہ لکھا کہ اس معاہدہ میں ایک طرف محمد رسول اللہ ہیں۔ کفار نے اس پر اعتراض کیا آپ نے فرمایا رسول اللہ کا لفظ مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا۔ میں کس طرح مٹا سکتا ہوں۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے یہ الفاظ کاٹ دیئے ۔ ۳۰ حالا نکہ صاف بات تھی آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ میرے دستخط ہیں تمہارے تو نہیں مگر آپ نے دوسروں کے احساسات کا پورا پورالحاظ رکھا اور ہر حالت میں صلح کر لی۔ آپ جس وقت مبعوث ہوئے۔ اُس وقت دنیا میں غلام عورت اور