انوارالعلوم (جلد 12) — Page 366
۳۶۶ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف تلواریں پھڑک رہی تھیں مگر آپﷺ نے فرمایا کہ ہم صلح کریں گے-۲۱؎ آپﷺ نے تجارت بھی کی ہے اور ایسی کہ حضرت خدیجہؓ کے غلام کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ایماندار کوئی نہیں دیکھا- سب سے زیادہ نفع آپﷺ کو ہوتا تھا- آپﷺ کی چیز میں اگر کوئی نقص ہوتا تو آپﷺ خود ہی اس کو ظاہر کر دیتے- نتیجہ یہ تھا کہ گاہک تلاش کر کے آپﷺ سے مال خریدتے تھے- آپﷺ کا غریبوں اور چھوٹوں سے معاملہ ایسا احسان کا تھا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپﷺ کی گردن میں رسی ڈال دی کہ مجھے کچھ مال دو- آپﷺ نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف یہ جواب دیا کہ میں بخیل نہیں ہوں- اگر میرے پاس ہوتا تو میں ضرور دے دیتا-۲۲؎ اس وقت آپﷺ کے دس ہزار صحابی آپ کے پاس موجود تھے- اگر آپ ذرا سا بھی اشارہ کر دیتے تو وہ اس کی گردن اڑا دیتے- مگر آپﷺ نے ذرا بھی خفگی کا اظہار نہیں کیا- غور کرو کون ہے جو اپنے چھوٹوں سے ایسا سلوک کرے- ایک دفعہ حاتم طائی کے قبیلہ کے لوگ آئے تا حالات دیکھ کر اندازہ کریں کہ مسلمانوں سے صلح کر لینی چاہئے یا جنگ- ان کے سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپﷺ نبی ہیں یا بادشاہ- اس نے دیکھا کہ ایک بڑھیا آئی اور آپ کو اپنے ساتھ علیحدہ لے جا کر کھڑی ہو گئی اور دیر تک باتیں کرتی رہی آپﷺ اس کے پاس کھڑے رہے- اس سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ شخص بادشاہ نہیں‘ نبی ہے- دوسری قوم کے سفراء پاس بیٹھے ہیں مگر آپﷺ اس وقت تک پوری توجہ سے ایک بڑھیا کی باتیں سنتے رہے جب تک وہ خود نہ چلی گئی- پھر بڑے لوگوں نے بھی آپﷺ سے باتیں کیں مگر ان سے بھی اعلیٰ نمونہ پیش کیا-۲۳؎ کسریٰ نے اپنے گورنر کو کہلا بھیجا کہ اس شخص کو پکڑ کر میرے پاس بھیج دو اس نے اپنے آدمی آپﷺ کے پاس بھیجے- انہوں نے آ کر آپ سے کہا کہ آپ چلیں ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی جان بخشی ہو جائے مگر انکار سخت نقصان کا موجب ہو گا- کسریٰ اس وقت آدھی دنیا کا بادشاہ ہے اور وہ عرب کو تباہ کر دے گا- آپﷺ نے جواب کے لئے ایک دن مقرر کیا اور جب مقررہ وقت پر وہ جواب کے لئے آئے تو آپﷺ نے فرمایا جا کر اپنے گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے- انہوں نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے اگر آپﷺ کی بات سچی ہوئی تو آپ بیشک نبی ہیں- چند روز کے بعد ایران سے ایک جہاز آیا جس میں گورنر کے نام ایک خط تھا جس پر نئی مہر تھی- وہ حیران ہوا کہ کیا معاملہ ہے- کھولا تو اس میں لکھا تھا- اپنے