انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 365

۳۶۵ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف لفظ کی عظمت اور ایمان کی طاقت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور آپ نے اٹھا کر کہا- اب تجھے کون بچا سکتا ہے‘ اس کمبخت نے آپ کے عمل سے بھی سبق نہ سیکھا اور کہا آپ ہی چاہیں تو چھوڑ سکتے ہیں- آپ نے اسے چھوڑ دیا اور کہا جاؤ چلے جاؤ- ۱۹؎ غرض اس قدر ثبوت ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے- آپﷺ کی زندگی میں ہر قسم کے نمونے موجود ہیں- ایک جنگ میں آپ نے ایک عورت کو زخمی دیکھا- باوجودیکہ وہ جنگ میں شامل تھی مگر آپ اس قدر غصہ ہوئے کہ صحابہ کا بیان ہے اس قدر غصہ کبھی نہ ہوئے تھے- جب بھی اسلامی لشکر باہر جاتا آپ ارشاد فرماتے کہ عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں‘ ناکاروں‘ بیماروں اور راہبوں‘ پادریوں وغیرہ پر ہرگز حملہ نہ کیا جائے- آپ قاضی تھے مگر ایسے کہ کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا- آپ جرنیل تھے مگر جنگ میں آپ سے کسی قسم کی غلطی آج تک ثابت نہیں ہو سکی بلکہ کئی فنون جنگ آپ نے دنیا کو سکھائے ہیں- آپ مبلغ تھے مگر چڑ چڑے نہیں- لڑائی یا سخت کلامی کرنے والے نہیں- مبلغین میں عام طور پر شوخی اور تیزی پیدا ہو جاتی ہے- مگر آپ میں یہ بات نہ تھی بلکہ ہمیشہ محبت سے مخالفوں کی بات سنتے- صلح کے موقع پر آپﷺ نے ایسی شرائط پر صلح کی کہ اس سے نرم شرائط ممکن نہیں- مگر جنگ ایسی بہادری سے کرتے کہ حنین کے موقع پر سارا لشکر بھاگ گیا- چونکہ اس موقع پر غیر مسلم حلیف بھی آپ کے ساتھ تھے اور ان میں اتنا جوش نہ تھا اس لئے سب بھاگ گئے- صرف بارہ آدمی آپﷺ کے ساتھ رہ گئے اور ان میں سے بعض نے آپﷺ کے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور کہا اس وقت یہاں ٹھہرنا ہلاکت کے منہ میں جانا ہے- مگر آپﷺ نے فرمایا چھوڑ دو- میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا- اور ایسی خطرہ کی حالت میں بھی آپﷺ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب کہتے ہوئے آگے بڑھتے گئے-۲۰؎ احد کی جنگ میں ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو خون سے تربتر تھا‘ ہر طرف سے اس پر حملے ہو رہے تھے- اور وہ اکیلا ہی سب کا مقابلہ کر رہا تھا- جب میں نے قریب جا کر دیکھا تو وہ رسول کریم ﷺ تھے- ایسے جری کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ آپﷺ نے بزدلی سے صلح کی- صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہؓ سخت جوش میں تھے ان کی