انوارالعلوم (جلد 12) — Page 364
۳۶۴ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف آپﷺکی اولاد میں سے صرف وہی زندہ رہیں- پھر اس کے علاوہ آپ ایسی نیک خو تھیں کہ جس کی مثال چراغ لے کر ڈھونڈیں تو نہ ملے سکے گی- وہ نہایت افسردگی کی حالت میں آپﷺ کے پاس آتی اور اپنے ہاتھوں میں چھالے جو چکی پیسنے کی وجہ سے پڑ گئے تھے‘ دکھاتی ہیں اور عرض کرتی ہیں کہ اب اس قدر مال و دولت آ رہی ہے- ایک غلام یا لونڈی مجھے بھی دی جائے جو مجھے مدد دیا کرے- آپﷺ جواب میں فرماتے ہیں کہ فاطمہ آؤ اس سے بہتر چیز تمہیں دوں اور چند کلمات سکھا دیتے ہیں-۱۶؎ میں پوچھتا ہوں دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو ایسے جذبات کا اظہار کرتے ہیں- نرینہ اولاد تو آپﷺ کی فوت ہو چکی تھی اور اس لحاظ سے گویا آپ بے اولاد تھے- صرف ایک فاطمہ باقی تھی وہ ایسی تکلیف کا اظہار کرتی اور آپﷺ یہ جواب دیتے ہیں- کیا اس سے یہ ثابت نہیں کہ آپ ہر حالت میں بے نظیر انسان تھے- دشمنوں کے ظلم سہنے میں بھی آپﷺ نے کمال دکھایا- لوگ پتھر مار مار کر خون آلود کر دیتے ہیں‘ آپ پر لا کر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دیتے ہیں‘ جب آپﷺ طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو مکہ والوں نے انہیں پہلے ہی کہلا بھیجا کہ ایک دیوانہ آتا ہے ان ظالموں نے آپ کے پیچھے چھوٹے چھوٹے لڑکے اور کتے ڈال دیئے- لڑکے پتھر مارتے تھے پھر آپﷺ جانتے ہیں‘ شکاری کتے کتنے سخت ہوتے ہیں- نتیجہ یہ ہوا کہ آپﷺ سر سے پاؤں تک زخمی ہو گئے- واپس آتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اگر چاہو تو فوراً ان لوگوں کوسزا دی جائے- مگر آپﷺ فرماتے ہیں نہیں یہ لوگ نادانی سے ایسا کرتے ہیں-۱۷؎ جب کبھی ضرورت پیش آتی آپ فوراً ان دشمنوں کی امداد کرتے- کوئی نہیں جو آپ کے پاس اپنی حاجت لے کر آیا اور آپ نے انکار کر دیا ہو- دشمن آتے اور آپ ان کی ہر طرح خاطر داری کرتے- وہ شہر جہاں سے رات کے وقت چھپ کر آپﷺ کو بھاگنا پڑا‘ جہاں کے لوگوں نے آپﷺ کے پیارے صحابہؓ کو اونٹوں سے باندھ باندھ کر چیر ڈالا‘ وہ لوگ جنہوں نے عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں شہید کر ڈالا‘ جلتی ریت پر ڈال ڈال کر ہلاک کیا جب مغلوب ہونے کے بعد آپ کے پیش کئے گئے تو آپﷺ نے فرمایا-: لاتثریب علیکم الیوم۱۸؎ ایک شدید دشمن نے جبکہ آپﷺ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی اور آپﷺ سو رہے تھے تلوار ہاتھ میں لیکر آپﷺ کو جگایا اور کہا اب تجھے کون بچا سکتا ہے- آپﷺ نے فرمایا- اللہ- اس