انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 354

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۵۴ نبی کریم ملی ایم کے پانچ عظیم الشان اوصاف عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ سے یہ کیا مختصر آیت ہے مگر اس میں آپ کے پانچ زبر دست اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تمہارے پاس رسول آیا ہے ۔ مِنْ اَنْفُسِكُمْ جو تم ہی میں سے ہے ۔ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے ۔ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ تمہاری بہتری کیلئے حریص ہے۔ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ جو لوگ اس کے بتائے ہوئے طریق پر چلیں، ان کے ساتھ رافت کا سلوک کرتا ہے۔ اس آیت میں پہلی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ آ۔ گئی ہے کہ آپ رسول ہیں یعنی بھیجے ہوئے ہیں۔ اس میں آپ کی زندگی کا ایک ایسا کیریکٹر بیان کیا گیا ہے جو بہت سے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے اسی وجہ سے یورپین مصنفین نے خصوصیت کے ساتھ آپ کی ذات پر اعتراض کئے ہیں۔ وہ وصف جو رسول میں بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ آپ اپنی ذات میں بڑائی کے خواہش مند نہیں آپ کو کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ لوگ میری تعریف کریں۔ آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ پیچھے رہیں اور دنیوی عزت آپ کی طرف منسوب نہ ہو سوائے اس کے کہ اللہ تعالٰی آپ کو مجبور کرتا تھا کہ یہ عزت آپ کو دے۔ رسالت نے دے۔ رسالت سے قبل صداقت ، جرأت و حوصلہ ہمدا حوصلہ ، ہمدردی تخلق ، محبت، ملنساری، ہمت، علم کی طرف میلان لوگوں کی ترقی کی خواہش غرضیکہ سب صفاتِ حسنہ آپ کے اندر موجود تھیں مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ آپ نے کبھی بڑائی کی خواہش کی ہو ۔ باوجود یکہ آپ کے اندر وہ تمام قوتیں موجود تھیں جو آپ کو دنیا کا سردار بنا سکتی تھیں۔ اگر آپ رسول نہ ہوتے تو بھی سب سے بڑے لیڈر بن سکتے تھے کیونکہ وہ تمام قابلیتیں جو لیڈر بننے کیلئے ضروری ہوتی ہیں آپ کے اندر موجود تھیں مگر ہم آپ کو سیاسی، تعلیمی اقتصادی میدان کے لیڈروں میں نہیں دیکھتے بلکہ غارِ حرا میں محبوب حقیقی کی یاد میں مصروف پاتے ہیں اور اس پر نظر کر کے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ رسول کریم مسلم کی ذات میں باوجود ہر قسم کی قابلیت رکھنے کے بڑائی تلاش کرنے کا مادہ نہ تھا۔ چالیس سال کی عمر تک آپ آگے نہیں آئے۔ اس کے بعد جب آئے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی اور طاقت نے مجبور کر کے آپ کو آگے کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ یعنی تمہیں یہ محسوس کرنا چاہئے کہ یہ شخص جو کلام پیش کرتا ہے اس کے دل میں اپنی بڑائی حاصل کرنے کی خواہش نہیں بلکہ جب ہم نے اسے بھیجا تو یہ مجبور ہو کر آیا۔ یہ ایک ایسا کیریکٹر ہے کہ تمام انبیاء کے کیریکٹر