انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 342

۳۴۲ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ تیسرا طریق تیسری صورت جو غلامی کے عام مشہور قاعدہ کے علاوہ دنیا میں رائج ہو گئی تھی‘ یہ تھی کہ لوگ اپنے آپ کو یا اپنے بیوی بچوں کو بیچ ڈالا کرتے تھے- اسلام نے اس طریق کو بھی بالکل روک دیا ہے اور ایک عام حکم دے دیا ہے کہ کسی آزاد کو غلام نہیں بنایا جا سکتا خواہ اس کی مرضی سے یا بغیر مرضی کے- لیکن میں بتا چکا ہوں کہ بعض حالات میں آزادی سے غلامی بہتر ہوتی ہے- ایک آزاد شخص جو بیمار ہے یا جسے کوئی ملازمت کا کام نہیں مل سکتا یا اور کوئی اسی قسم کی بات پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ روزی نہیں کما سکتا‘ وہ آزاد رہتے ہوئے جو تکلیف اٹھائے گا بعض حالات میں غلامی میں اس سے کم تکلیف پہنچے گی- اسی طرح جو تکلیف اس کے بچے اس کے پاس اٹھائیں گے‘ بالکل ممکن ہے کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ غلامی میں اس سے کم تکلیف اسے پہنچے- پس یہ حکم کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو نہیں بیچ سکتا اس وقت تک مفید اور قابل عمل نہیں کہلا سکتا جب تک کہ ان مشکلات کا بھی علاج نہ سوچا جائے جو اس حالت میں پیدا ہوتی ہیں- اس زمانہ میں تمدنی ترقی کے ماتحت اس حکم کو تو لوگوں نے اختیار کر لیا ہے لیکن اس کے ساتھ جو مشکلات وابستہ ہیں‘ ان کا کوئی علاج نہیں کیا- مگر محمدﷺ رسول اللہ ﷺ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر فرد کا کھانا مہیا کرنا اور اس کا ضروری لباس اور اس کے لئے رہائش کا انتظام حکومت پر یا بالفاظ دیگر ساری قوم پر واجب قرار دیا گیا ہے- اور اس طرح اس ضرورت کو جو آزاد کو غلام بنانے پر مجبور کرتی ہے‘ باطل کر کے غلامی کی ایک شق کا قلع قمع کر دیا گیا ہے- دنیوی جنگوں میں کسی کو غلام نہیں بنایا جا سکتا اس کے بعد اب میں وہ صورت لیتا ہوں جو غلامی کی جائز صورت سمجھی جاتی رہی ہے- اور جو یہ ہے کہ کسی شکوہ یا شکایت پر دو قومیں آپس میں لڑ پڑیں اور ان میں سے غالب آنے والی قوم مغلوب کے افراد کو قید کر کے اپنا غلام بنا لے- اس قسم کی غلامی میں سے اسلام نے اس غلامی کو تو اڑا دیا ہے جو دنیوی جنگوں کے نتیجے میں رائج تھی- اور اس کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اول تو دنیوی جنگیں نہ ہی ہوں اور اگر ہوں تو ان کا اختتام صلح پر ہونا چاہیئے اور محض حقوق کے لقفیہ پر ہونا چاہیئے اور غلام وغیرہ نہیں بنانے چاہئیں- ان جنگوں کا اصول اسلام نے یہ رکھا ہے کہ دوسری بے تعلق قوموں کو بھی ان میں