انوارالعلوم (جلد 12) — Page 328
۳۲۸ مدیر اخبار ‘’وفا العرب’‘ سے گفتگو میں ہندوؤں کی اس وقت اکثریت ہے جس کی وجہ سے حکومت کی باگ ڈور ان ہی کے ہاتھ میں ہے- انگریزوں کی مدد سے انہیں بڑے بڑے عہدے ملے جن سے انہوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا- انگریزوں کو بھی یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں مسلمان طاقت پکڑ کر دیگر ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ ایک عام ملی اتحاد پیدا نہ کر لیں جو مغرب کا مقابلہ کرے اس لئے وہ بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے مسلمانوں کا شیرازہ کمزور ہوتا چلا جائے- ہم تو اپنے ہندو بھائیوں سے اتفاق کی پوری پوری خواہش رکھتے ہیں لیکن ایک طرف ان کی بے جا طمع اور حرص اور دوسری طرف حکومت کی سیاست دونوں اس اتحاد میں حائل ہیں- اور اب حالت یہ ہے کہ حکومت روز بروز ہندوؤں کی طاقت کو ہمارے خلاف بڑھا رہی ہے اور اس میں ہماری حالت ویسی ہی ہے جیسے عربوں اور فلسطین کے یہودیوں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے- سوال: مشترکہ خدمت وطن کے لئے کیا اس وقت اتحاد ممکن نہیں؟ جواب: اس وقت تک جب تک کہ ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہے بظاہر یہ خیال موہوم نظر آتا ہے- بالفرض اتحاد ہو بھی جائے تو بھی ہندوؤں کی ہمارے لئے تباہ کن اکثریت انہیں ہی قوت و طاقت کا وارث بنائے گی اور پھر مسلمانوں کی صدائے استحقاق و احتجاج ان کے لئے چنداں مفید نہ ہوگی کیونکہ ملک کی تمام تجارت‘ صنعت و حرفت پر ہندوہی قابض ہیں- مثلاً ہندوستان کی آبادی ۳۵ کروڑ ہے جس میں ۴/۱ مسلمان ہیں مگر آج مسلمانوں کی اقتصادی حالت یہ ہے کہ ہندوؤں کا مسلمان تاجروں پر جو قرض ہے اس کا سوداڑھائی کروڑ سالانہ سے بھی زیادہ ہے اور یہ سود ایسا ہے کہ اگر مسلمان اپنے سارے کے سارے املاک بیچ کر بھی ادا کرنا چاہیں تو بھی ادا نہ کر سکیں- اقتصادی حالت بھی ایک بہت بڑا سبب ہے- جو نفرت کی خلیج کو روز بروز بڑھارہی ہے- حکومت اس اقتصادی خرابی کے دور کرنے کے لئے کوئی معقول طریق اختیار نہیں کر رہی- سوال : حکومت برطانیہ کی مدافعت کے لئے کیاباطنی طور پر ہندو مسلم متحد ہیں؟ جواب: بھلا اتفاق کیسے ہو جبکہ حالت یہ ہے کہ اعلانیہ ہمارا مقاطعہ کیا جاتا ہے- اگر کوئی مسلمان بدقسمتی سے کسی ہندو کی چیز کو ہاتھ لگاوے- تو اس کے ساتھ نہایت حقارت آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اس کی قیمت ادا کرے‘ حکومت کے قوانین بھی ایسے امور میں ان کے موید ہیں-