انوارالعلوم (جلد 12) — Page 327
۳۲۶ مدیر اخبار ‘’وفا العرب’‘ سے گفتگو بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مدیر اخبار ‘’وفاء العرب’‘ (دمشق)سے گفتگو دمشق کے ایک مشہور ادیب محمود خیرالدین مدیر جریدہ ‘’وفاء العرب’‘ ہندوستان آئے- تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ملاقات اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے قادیان بھی تشریف لائے اور تین دن ٹھہرے- ہندوستان سے واپس جا کر انہوں نے اپنے اخبار ‘’وفاء العرب’‘ مورخہ ۲۹- ذی الحج ۱۳۳۹ھ میں ایک مفصل مضمون لکھا جس کا ترجمہ الفضل مورخہ ۲۰-اکتوبر ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا- مدیر سے حضور کی گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں درج ذیل ہے- سوال: ہندوستان کی سیاسی شورش کے متعلق جناب کا کیا خیال ہے؟ اور کیا حکومت برطانیہ اس تگ و دو کے بعد آپ کے تمام حقوق دے دے گی؟ جواب: یقیناً ایسے حقوق جو طرفین کے لئے مناسب ہوں حکومت کو دینے پڑیں گے- حکومت کی یہ زبردست خواہش ہے کہ آپس کی غلط فہمی و عدم اعتمادی کا ازالہ کیا جائے- چنانچہ راہنمایان ملک کی ایک مجلس اس امر کے لئے منعقد کی گئی ہے تا کہ ہندوستانی معاملات اور ملکی مفاد کے متعلق بحث و تمحیص اور پھر تصفیہ کریں جس کا نتیجہ یقیناً مفید ہی ہوگا- سوال: ہم اکثر ہندو مسلم تنازعات و مناقشات کے متعلق سنتے رہتے ہیں اس باہمی اختلافات کے کیا اسباب ہیں؟ جواب: ہندو مسلم معاملہ اس معاملہ سے زیادہ خطرناک ہے جو عہد فرعون میں اقباط اور بنی اسرائیل کے درمیان تھا- جب ہم عربی اخبارات میں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے ہیں تو ہمیں حیرانی ہوتی ہے- دراصل بات یہ ہے کہ وہ ہماری مشکلات و مصائب سے واقف نہیں- ورنہ وہ یقیناً ہمارے ساتھ ان حالات میں اظہار ہمدردی اور تعاون کرتے- دیکھئے تو ہندوستان