انوارالعلوم (جلد 12) — Page 322
۳۲۲ احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی تیسرے کھانے کے بعد یہ تکلیف ہو گئی ہے- اس کے علاوہ شام کے بعد بھی مجھے ایک تقریر کرنی ہے اس لئے اختصار کے ساتھ یہ کہہ کر میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں کہ عورتوں کے اندر عام طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی کام کی نہیں- یہ خیال قطعاً بے بنیاد ہے اور اسے جس قدر جلد ممکن ہو دل سے نکال دینا چاہئے- سیالکوٹ کی لجنہ نے ثابت کر دیا ہے کہ عورتیں بھی کام کر سکتی ہیں- عورتوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مرد و عورت برابر ہیں- اور مردوں کی طرح وہ بھی ترقی کے مدارج طے کر سکتی ہیں- رسول کریم ﷺ نے اپنی ایک بیوی کے متعلق فرمایا ہے خذوانصف دینکم من ھذہ الخمیراء ۴؎یعنی نصف دین عائشہؓ سے سیکھو اور ہم دیکھتے ہیں حضرت عائشہ ؓ نے ایسے ایسے اہم امور میں مردوں کی راہنمائی کی ہے کہ حیرت ہوتی ہے- رسول کریم ﷺ کی باتوں کے سمجھنے میں انہیں کمال حاصل تھا- بسا اوقات مردوں کی عقل وہاں تک نہ پہنچتی تھی‘ جہاں ان کا دماغ پہنچ جاتا تھا- ایک لطیفہ مشہور ہے کہ رسول کریم ﷺ کے خاندان میں ایک میت ہو گئی اور غالباً حضرت علیؓ کے بھائی لڑائی میں شہید ہو گئے- عورتوں کو سخت صدمہ تھا‘ وہ بین کرنے لگیں اور چونکہ یہ بات منع ہے اس لئے کسی نے آکر رسول کریم ﷺ سے ذکر کیا- آپ نے فرمایا جاؤ جا کر ان کو منع کرو- اس نے منع کیا مگر وہ نہ رکیں- اسلام اس وقت ابتدائی حالت میں تھا اور عورتوں کی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی- اس نے پھر آ کر رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ وہ باز نہیں آتیں- آپ نے فرمایا-فاحث فی افواھن التراب ۵؎ یعنی ان کے منہ پر مٹی ڈالو- اس شخص نے واقعی مٹی اٹھائی اور جا کر ان پر ڈالنی شروع کر دی- حضرت عائشہ ؓ کو علم ہوا تو آپ نے اس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا تم مرد ہو لیکن اتنی عقل نہیں رکھتے کہ رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب سمجھو- آپ کا مطلب یہ تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ نہیں کہ واقعی ان پر مٹی ڈالو- تو حضرت عائشہ ؓ نہایت فہیم عورت تھیں- اسی طرح حضرت فاطمہ ؓ تقویٰ اور طہارت میں بے نظیر تھیں حتی کہ رسول کریم ﷺ بعض راز کی باتیں آپ سے کہہ دیتے تھے- یہی حال اور عورتوں کا بھی تھا- تو عورتوں کیلئے ترقی کے ذرائع ویسے ہی ہیں جیسے مردوں کیلئے اور میں امید کرتا ہوں کہ احمدی مستورات کبھی یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں گی کہ ان کیلئے ترقی کی گنجائش نہیں- بلکہ ان کا ہر قدم آگے ہی بڑھے گا اور وہ مسلمانوں کی قوت و طاقت کو ترقی دینے‘ دنیا میں اخلاص کی روح پھونکنے اور انسانوں کو انسانیت کے مقام