انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 321

۳۲۱ احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی اسی طرح کم از کم پندرہ سولہ عورتوں کو بی- اے‘ ایم- اے تک تعلیم دلائی جائے تا عورتیں خود دوسری عورتوں کو تعلیم دے سکیں- مردوں کیلئے کالج قائم کرنے کی شرائط سخت ہیں- یعنی جب تک ایک خاص رقم جمع نہ کی جائے اور عمارت تعمیر نہ ہو‘ اس کی اجازت نہیں ہو سکتی- لیکن عورتوں کیلئے ایسی شرائط نہیں اس لئے ہمیں ان کیلئے انتظام کرنے میں تھوڑے سے خرچ پر بہت سی سہولتیں میسر ہیں- اور جب قادیان میں عورتیں ہی تعلیم دینے کیلئے تیار ہو جائیں تو میرا ارادہ ہے وہاں ہوسٹل قائم کر کے باہر کی عورتوں کیلئے بھی وہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کر دیا جائے گا- یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ سارے پنجاب میں مسلمانوں کا ایک بھی زنانہ کالج نہیں اور قادیان کا کالج پہلا زنانہ کالج ہے اور خدا کے فضل سے وہاں عورتوں کی تعلیم اس قدر زیادہ ہے کہ چند ماہ ہوئے میں علی گڑھ گیا تو مجھے بتایا گیا صرف چار لڑکیوں نے انٹرنس کا امتحان دیا ہے- لیکن قادیان میں پہلے ہی سال سولہ لڑکیوں نے امتحان دیا اور ہم نے اندازہ کیا ہے کہ قادیان میں قریباً سو فیصدی لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں- گویا ان کی شرح لڑکوں سے بھی زیادہ ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری جماعت میں عورتوں کی تعلیم اس سرعت سے پھیل رہی ہے- خصوصاً قادیان میں کہ انشاء اللہ بہت جلد عورتوں کی جہالت کی بلا سے ہم لوگ بچ جائیں گے- سیالکوٹ کی لجنہ نے جو کام جاری کیا ہے مجھے امید ہے ان کی کوشش سے یہاں بھی تعلیم کا چرچا وسیع ہو جائے گا- مجھے یہ سنکر بہت خوشی ہوئی کہ یہاں کی احمدی مستورات نے اپنے حسناخلاق سے دوسرے طبقوں میں بھی ایسی قبولیت حاصل کر لی ہے کہ سب کی لڑکیاں ان کے سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور کسی قسم کی (FRICTION) نہیں- یہ ان کے کام کی روح کے متعلق ایک نہایت عمدہ شہادت ہے- اگر مردوں میں نہیں تو کم از کم عورتوں میں اس روح کا پیدا ہونا کہ اسلامی کاموں کو مل کر کرنا چاہئے نہایت مسرت بخش ہے اور جب عورتوں میں یہ روح پیدا ہو جائے تو پھر مرد بھی متحدہ جدوجہد کیلئے مجبور ہو جائیں گے- میں اس وقت زیادہ نہیں بول سکتا کیونکہ میں جب کبھی کسی شہر میں جاتا ہوں تو چونکہ میری صحت بھی خراب ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہم دیہات کے رہنے والے لوگ شہروں کا ناقص گھی کھانے کے عادی نہیں ہوتے‘ اس لئے لاہور میں تو پہلا ہی کھانا کھانے کے بعد میرا گلا خراب ہو جایا کرتا ہے لیکن یہاں