انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 271

۲۷۱ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں زنانہ کالج مردانہ کالج سے بھی زیادہ اہم ہے- اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں مردانہ کالج کی ضرورت نہیں- ضرورت ہے- مگر اس کے متعلق سرکاری طور پر جو شرائط ہیں وہ ہم ابھی پورے نہیں کر سکتے- لیکن اگر ہم ان شرائط کو پورا کر سکیں تو بھی میرے نزدیک لڑکیوں کے لئے کالج ضروری ہے کیونکہ لڑکے تو باہر بھی رہ سکتے ہیں لیکن لڑکیوں کے لئے باہر رہنا مشکل ہے- ان حالات کو مدنظر رکھ کر جیسا کہ ناظر صاحب نے بیان کیا ہے بیسروسامانی کی حالت میں کام شروع کیا جا رہا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ ہائی سکول کے اساتذہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق جیسے پہلے محنت کی ہے اب بھی کریں گے- مجھے معلوم ہوا ہے کہ لڑکیوں کی ایف- اے کلاس کے لئے مضمون جیاگریفی (GEOGRAPHY) مقرر کیا گیا ہے- میں نے سنا ہے- عام طور پر طالب علم یہ مضمون نہیں لیتے- شائد اس لئے کہ اسے مفید نہیں سمجھا جاتا- یا اس لئے کہ اس میں امتحان سخت ہوتا ہے اور لڑکے کم پاس ہوتے ہیں- دراصل یہ ایسا علم ہے جس کی زنجیر نہیں ہوتی اور اس وجہ سے یہ مشکل سے یاد ہوتا ہے جن علوم میں زنجیر ہوتی ہے وہ جلد یاد ہوتے ہیں کیونکہ ایک بات سے دوسری بات یاد آ جاتی ہے- مجھے معلوم ہوا ہے- فلاسفی میں امتحان دینے والے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں کیونکہ اس میں زنجیر چلتی ہے- میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس مضمون کے لئے آدمی تیار کر لیا جائے- ہمارے قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر اس میں ماہر ہیں- سکول میں اب جو چھٹیاں ہونے والی ہیں‘ ان میں ان سے یا کسی اور سے ضروری ضروری باتیں پڑھا لی جائیں- اور یہ مضمون لڑکیوں کے لئے رکھا جائے- اس میں کامیابی کی زیادہ توقع ہو سکتی ہے- چونکہ یہ ہماری پہلی کوشش ہے اس لئے ایسی راہ اختیار کرنی چاہئے جس سے کامیابی کی زیادہ توقع ہو- فلاسفی تربیت اولاد میں بھی بہت امداد دیتی ہے- اس لئے یہی پڑھانی چاہئے- میں امید کرتا ہوں منتظمین اس کے لئے کوشش کریں گے اس کے بعد میں دعاء کرتا ہوں جس میں سب احباب شامل ہوں- اللہ تعالٰی ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے- ہمارے اسباب میں جو کمزوری ہے اسے دور کر کے اعلیٰ درجہ کا نتیجہ پیدا کرے- اور ایسے فوائد عطا کرے کہ جن سے نہ صرف عورتوں کی ذہنی ترقی ہو بلکہ آئندہ اولاد کی تربیت کے لئے بہتر سے بہتر سامان پیدا ہوں- (الفضل مورخہ ۷ جولائی ۱۹۳۱ء)