انوارالعلوم (جلد 12) — Page 270
۲۷۰ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت لڑکیوں کے مقابلہ میں سیکنڈ رہی اور لڑکوں کے مقابلہ میں اس کا تیرہواں یا چودھواں نمبر ہے- میرا منشاء یہ ہے کہ اس تعلیم کو جاری رکھا جائے حتیٰ کہ اتنی کثیر تعداد گریجوایٹ خواتین کی پیدا ہو جائے کہ ہم سکول میں بھی زنانہ سٹاف رکھ سکیں اور کالج بھی قائم کر سکیں- گورنمنٹ نے اب مردوں کے لئے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ وہ پرائیوٹ امتحان نہیں دے سکتے لیکن عورتوں کیلئے یہ شرط نہیں- پیشتر اس کے کہ عورتوں کے لئے بھی پرائیوٹ امتحان نہ دینے کی شرط پنجاب یونیورسٹی عائد کرے‘ ہم اتنی تعداد پیدا کر لیں جو کہ ہماری آئندہ نسلوں کو تعلیم دینے اور ہماری تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے کافی ہو- میں نے جہاں تک غور کیا ہے جب تک عورتیں ہمارے کاموں میں شریک نہ ہوں‘ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے- زیادہ تر امور ایسے ہیں جن میں عورتوں کا سوال پیش آتا ہے- اسی طرح تربیت اولاد کا سوال ہے جو عورتوں سے خاص طور پر تعلق رکھتا ہے- اور یہ حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عورتیں تعلیم یافتہ نہ ہوں اور یہ کام ان کے سپرد نہ کر دیا جائے- کسی گھر میں کتنی ہی تعلیم یافتہ عورت ہو اور وہ بچوں کی کتنی ہی اعلیٰ تربیت کرتی ہو اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی کیونکہ اولاد پر اردگرد کے بچوں کا بھی اثر پڑتا ہے اور تمام بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ کافی تعداد میں تعلیم یافتہ عورتیں مل جائیں- اور چھوٹی عمر کے بچوں کے بورڈنگس بنا کر ان کا انتظام عورتوں کے سپرد کر دیا جائے تا کہ وہ ان میں بچپن میں ہی خاص اخلاص پیدا کریں- اور پھر وہ بچے بڑے ہو کر دوسروں کے اخلاق کو اپنے اخلاق کے سانچے میں ڈھالیں- بغیر ایسی اجتماعی جدوجہد کے کامیابی نہیں ہو سکتی نہ تقریروں سے نہ وعظوں سے نہ درس سے- اس میں کامیابی کی یہی صورت ہے اور قومی کیریکٹر اسی طرح بن سکتا ہے کہ ایسے ہومز قائم کئے جائیں اور جنہیں خدا تعالیٰ توفیق دے وہ ان میں اپنے بچوں کو داخل کریں عورتیں ان کی نگران ہوں- بچے چھوٹی عمر سے لے کر سات آٹھ سال تک ان میں رہیں- اور اس عرصہ میں ان میں اعلیٰ اخلاق پیدا کئے جائیں- پھر یہ جماعت دوسروں کو اپنے رنگ میں ڈھالے- یہ لڑکے اور لڑکیاں جن کے سات آٹھ سال تک کی عمر میں ایک جگہ تربیت پانے میں کوئی حرج نہیں قوم کے لئے بہت مفید ہو سکتے ہیں- اگر ہم ایسے ہومز قائم کر سکیں تو اس کے ذریعہ اخلاق پیدا کئے جا سکتے اور ایسی تربیت ہو سکتی ہے جو ہماری جماعت کو دوسروں سے بالکل ممتاز کر دے- مگر یہ بات کبھی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کافی تعلیم یافتہ عورتیں نہ ہوں-