انوارالعلوم (جلد 12) — Page 269
۲۶۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم لڑکیوں کی تعلیم و تربیت (فرمودہ یکم جولائی ۱۹۳۱ء برموقع افتتاح ایف اے کلاس گرلز ہائی سکول قادیان) ۱۹۲۵ء میں میں نے اس نیت سے کہ عورتوں کی تعلیم ایسے اصول پر ہو کہ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کی بھی تکمیل ہو سکے- اور اس خیال سے کہ مذہبی تعلیم اپنے ساتھ دلچسپی اور دلکشی کے زیادہ سامان نہیں رکھتی اور بعد میں اس کا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے‘ مذہبی تعلیم کو پہلے رکھا تا کہ ایک حد تک دینی تعلیمی حاصل کرنے کے بعد لڑکیاں انگریزی تعلیم حاصل کر سکیں- اور چونکہ اس سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے اس لئے یہ بڑی عمر میں بھی اگر حاصل کرنی پڑے تو گراں نہ گزرے گی لڑکیوں کیلئے پہلے عربی کی کلاسیں کھولیں- اس وقت قادیان میں بھی ایسے لوگ تھے جو اس پر معترض تھے اور باہر بھی- خاص کر پیغامی سیکشن نے بہت ہنسی اڑائی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلی مثال ہے کہ اس کثرت سے مولوی کا امتحان ہماری جماعت کی لڑکیوں نے پاس کیا- میرا خیال ہے سارے ہندوستان میں اتنے عرصہ میں مولوی کا امتحان پاس کرنے والی اتنی لڑکیاں نہ ہوں گی جتنی ایک سال میں ہماری لڑکیوں نے یہ امتحان پاس کیا- اس کے بعد زنانہ سکول کی لڑکیاں چونکہ ہائی کلاسوں کی تعلیم پا سکتی تھیں اس لئے مدرسہ ہائی کے استادوں کی امداد سے ہائی کلاسیں کھولی گئیں- ان میں بھی خدا کے فضل سے اچھی کامیابی ہوئی اور اس سال سات طالبات انٹرنس کے امتحان میں کامیاب ہوئیں- یہ بھی اپنی ذات میں پہلی مثال ہے کیونکہ کسی سکول سے سات مسلمان لڑکیاں آج تک ایک سال میں کامیاب نہیں ہوئیں- اور چونکہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ہم اپنی جماعت کو بھی تحریک کرتے رہتے ہیں اس لئے قادیان سے باہر بھی کئی لڑکیوں نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اچھے نمبروں پر پاس کیا ہے- چنانچہ ایک احمدی لڑکی