انوارالعلوم (جلد 12) — Page 265
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۶۵ زمینداروں کی اقتصاد کی مشکلات کا سل کچھ مشکل نہیں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملک کی ۸۰ فیصدی آبادی کو غلاموں سے بدتر حالت میں رکھا جائے اور انسانیت کے تمام حقوق سے اس کو محروم کر دیا جائے اور کوئی حکومت جو انسانی حکومت کہلانے کی مستحق ہو ایسی نہیں ہو سکتی جو اس قسم کے جائز مطالبات کا انکار کرے۔ اور اگر کوئی حکومت اس کا انکار کرے تو وہ ۸۰ فیصدی آبادی جو جائز اور صحیح ذرائع سے ایسے شدید ظلم کا ازالہ ظلم کا ازالہ نہ کروا سکے یقینا انسان کہلانے کی مستحق نہیں اور یقینا اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی گردنیں پکڑ کر دوسرے لوگوں کے حوالے کر دی جائیں تاکہ وہ انہیں ہمیشہ کی غلامی میں رکھیں اور کوئی ذلت ایسی نہیں جو ایسے لوگوں کے لئے بڑی ہو کیونکہ وہ خود اپنی موت کو بلاتے ہیں اور وہ خود اپنے لئے رسوائی چاہتے ہیں اور عارضی آرام کے لئے دائمی غلامی کو پسند کرتے ہیں۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے ملک کے زمیندار خواہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں، سکھ ہوں اس خلافِ انسانیت سلوک کی زیادہ برداشت نہیں کریں گے اور متفق ہو کر سود خواروں اور گورنمنٹ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں گے اور اس وقت تک آرام نہیں لیں گے جب تک وہ اپنے آپ کو اور بیوی بچوں کو غلامی سے آزاد نہ کرا لیں۔ میں نے بیویوں کا لفظ بلاوجہ زائد نہیں کیا۔ پنجاب میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں زمینداروں نے سود کی ادائیگی کی ضمانت میں اپنی بیویوں کو سود خوار بنیوں کے پاس گرو کیا ہوا ہے۔ جو قرض کہ ایک زمیندار جیسی با غیرت قوم سے اس قسم کی حرکت کرا سکتا ہے اب وقت ہے کہ اس قرض کا گلی طور پر فیصلہ کر دیا جائے اور وہ فیصلہ ایسے رنگ میں ہونا چاہئے کہ نہ کوئی ہمارا حق مارے اور نہ ہم کسی کا حق ماریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ میرے خیالات پر میں امید ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے ٹھنڈے دل سے غور کریں گے اور جو باتیں کہ ان میں سے آپ کو صحیح معلوم ہونگی ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ تکالیف باتوں سے دور نہیں ہوتیں بلکہ عمل سے دور ہوتی ہیں۔ اب آپ لوگوں کی تکلیفیں اس ۔ اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ زیادہ دیر لگانا علاج کو نا ممکن بنا دینا ہے۔ خدا کرے کہ آپ لوگ وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور اس تکلیف دہ زندگی سے جو در حقیقت زندگی کہلانے کی مستحق نہیں اپنے آپ کو اور اپنی اولادوں کو بچا ئیں۔