انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 256

انوا را معلوم جلد ۱۴ ۲۵۶ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل پہلے ہی تقسیم شدہ ہیں اور آبادی کا زیادہ حصہ زمیندارہ پر گزارہ کرتا ہے۔ وہاں کے زمیندار تو میں سمجھتا ہوں کبھی بھی اس سکیم پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ پس یہ علاج تو ہمارے ملک کیلئے کافی نہیں ہو سکتا۔ دوسرا علاج یہ ہے کہ تمام ممالک اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ روی پیداوار ان کے ملک میں داخل نہ ہو سکے۔ اگر دنیا کی تمام یا اکثر حکومتیں اس بات پر اتفاق کر میں تو موجودہ تباہی کا بہت کچھ علاج ہو سکتا ہے۔ پس میرے نزدیک اگر ہم اس مصیبت کو دور کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں گورنمنٹ پر زور دینا چاہئے کہ وہ دوسری گورنمنٹوں سے مل کر یا تو روس کے غلے کی پیداوار کو محدود کرائے یا سب مل کر اس بات پر اتفاق کرلیں کہ روی اجناس اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اگر اس قسم کی کوئی تدبیر نہ کی گئی اور دوسری طرف روس میں بھی زمینداروں کی بغاوت کامیاب نہ ہوئی جو کہ روسی حکومت کے موجودہ قوانین کے سخت مخالف ہیں تو پھر دنیا کے زمیندار ایک لمبے عرصہ تک مشکلات میں مبتلا رہیں گے۔ تیسرا عارضی سبب جو اس وقت ہندوستان کی پونڈ کی قیمت بڑھادی جائے اقتصادی حالت پر اثر ڈال رہا ہے اس کا علاج بھی ہیں ہے کہ ہم سب لوگ مل کر حکومت پر زور دیں کہ وہ اپنی اس پالیسی کو بدل دے کہ پونڈ کی قیمت ساڑھے تیرہ روپے رہے بلکہ جس طرح پہلے ہوتا تھا وہ پونڈ کی قیمت پندرہ روپے کر دے۔ اس طرح ہندوستان کو گاہک زیادہ مل جائیں گے اور اجناس کی قیمت بڑھ جائے گی۔ زمینداروں کی اقتصادی حالت کے درست ہونے کا ایک ریلوے کرائے کم کر دے مردے عارضی ذریعہ یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ ریلوے کے کرائے گرا دے اور جیسا کہ بعض دوسری گورنمنٹیں کرتی ہیں ، جہازوں کو امداد دے کر ان کے کرائے بھی گروا دے۔ اس صورت میں بھی ہندوستان کو غلے کے گاہک زیادہ مل جائیں گے اور قیمت بڑھ جائے گی۔ پس ہمیں ان امور کے متعلق بھی گورنمنٹ کو توجہ دلانی چاہئے۔ بظاہر گورنمنٹ پر یہ ایک بہت بڑا بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن عملاً اس صورت کو اختیار کرنے پر یہ بوجھ بہت کم ہو جائے گا کیونکہ غلہ کی قیمت فورا بڑھ جائے گی اور گورنمنٹ کو معاملے میں اتنی تخفیف کی ضرورت نہ رہے گی جتنی کہ موجودہ حالات میں ہے اور اس میں کوئی بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ