انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 257

۲۵۷ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل معاملے میں تخفیف کر کے زمینداروں کی تکلیف دور کرنے سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں کہ غلہ کی قیمت بڑھ جائے اور غلے کی منڈیوں پر ہندوستان کا قبضہ قائم رہے- زمینداروں کے نقصان کے مستقل اسباب جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ عارضی اسباب اور عارضی علاج ہے- ان کے علاوہ بعض مستقل اسباب ہیں جن کی وجہ سے ہندوستان کے زمیندار خصوصیت کے ساتھ نقصان اٹھا رہے ہیں اور جب تک ہم ان اسباب کا علاج نہیں کریں گے اس وقت تک ہندوستان کے زمینداروں کی اقتصادی حالت درست نہیں ہو سکتی- ہمارے ¶ملک کی بہت بڑی بد قسمتی ہو گی اگر ہمارا زمیندار طبقہ موجودہ عارضی مشکلات کو دور کر کے پھر غافل ہو جائے- کیونکہ اس صورت میں وہ آج ایک چھوٹی تباہی سے بچ کر آج سے دس سال بعد ایک بہت بڑی تباہی میں مبتلا ہو جائے گا- پس میں ان اسباب کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو اسباب کہ مستقل طور پر ہندوستان کی اقتصادی حالت کو خراب کر رہے ہیں- پہلا سبب پہلا سبب تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کی زمینوں کی پیدا وار اجتماعی کوشش سے حاصل نہیں کی جا سکتی- چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مختلف زمینداروں کے قبضے میں ہیں جس کی وجہ سے مشینوں سے کاشت کا کام نہیں لیا جا سکتا- عمدہ آلات استعمال نہیں کئے جا سکتے اور ملک کی آبادی کا بہت سا حصہ ایسی زمینوں کے ساتھ چمٹا بیٹھا ہے جو اس کے گزارہ کے لئے کافی نہیں ہیں- میں چونکہ اس وقت نہری آبادی کے زمینداروں کو مخاطب کر رہا ہوں میں اس تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کس طرح غیر نہری علاقوں میں چند گھماؤں بلکہ چند کنال زمین کے اوپر لاکھوں خاندان گزارہ کر رہے ہیں- صرف اس وجہ سے کہ وہ زمینداروں کی اولاد ہیں اور صرف اس وجہ سے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے باپ دادے کے ترکے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں- نتیجہ یہ ہو رہا کہ لاکھوں خاندان پنجاب کے جن کی مجموعی تعداد ۲۵-۳۰ لاکھ سے کسی صورت میں کم نہیں اپنی طاقت کو بالکل ضائع کر رہے ہیں اور خشک تھنوں سے دودھ دوہنے کی کوشش کر رہے ہیں- ان کی مقبوضہ زمینیں کسی صورت میں بھی ان کے لئے گزارہ کا موجب نہیں بن سکتیں- پس وہ قرض لینے پر مجبور ہیں اور اس قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں- اتنے بڑے گروہ کو جو قرض لینے پر مجبور ہے قرض لیتے ہوئے دیکھ کر ان کے ہمسائے بھی معمولی معمولی ضرورتوں پر قرض لینے لگ جاتے ہیں- وہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا