انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 252

۲۵۲ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل نرخ کی خرابی کے اسباب یاد رکھنا چاہئے کہ نرخ کی خرابی کے اسباب میں دو بڑے سبب گاہک کی کمی یا جنس کی فراوانی ہوتے ہیں- یعنی یا تو چیز اس لئے سستی ہو جاتی ہے کہ اس کے گاہک کم ہوتے ہیں یا اس لئے سستی ہو جاتی ہے کہ گاہکوں کی ضرورت سے زیادہ اس کی پیداوار ہو جاتی ہے- اگر ان دونوں اسباب میں سے ایک سبب بھی پیدا ہو جائے تو زمینداروں کی مالی حالت کو بہت نقصان پہنچتا ہے- مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے زمینداروں کو ان دونوں مصیبتوں سے ایک ہی وقت میں پالا پڑا ہوا ہے- یعنی خریدار کی کمی بھی ان کی مالی حالت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور پیداوار کی زیادتی بھی- خریداروں کی کمی کی وجہ خریداروں کی کمی کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے چند سال سے ہندوستان نے انگلستان کا مال خریدنا بند کر دیا ہے اور اس وجہ سے انگلستان کے بنکوں کا قرضہ ہندوستان کے بنکوں کے نام تھوڑا ہو گیا ہے- شاید عام زمیندار اس بات سے واقف نہ ہوں کہ ایک ملک کے لوگ جب دوسرے ملک سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو وہاں سے روپیہ نہیں جاتا بلکہ اس مال کی خریداری صرف ہنڈیوں پر ہوتی ہے- مثلاً اگر ہندوستان کا کوئی تاجر ایک کروڑ روپیہ کا کپڑا انگلستان سے خریدے تو وہ ایک کروڑ روپیہ انگلستان نہیں بھیجے گا بلکہ جب وہ مال ہندوستان پہنچے گا تو وہ شخص ایک کروڑ روپیہ یہاں کے کسی بنک کو اس مال کے بدلے میں ادا کر دے گا اور وہ بنک اپنی انگلستان کی شاخ کو ایک کروڑ روپیہ ادا کرنے کی چھٹی لکھ دے گا اور اس طرح ہندوستان کی شاخ انگلستان کی شاخ کی ایک کروڑ روپیہ کی مقروض ہو جائے گی اور اس روپے کے بدلے میں انگلستان ایک کروڑ روپیہ تک کا مال ہندوستان سے خرید سکے گا اور اس طرح دونوں طرف کے قرضے ادا ہو جائیں گے- لیکن اگر ہندوستان انگلستان سے مال خریدنا بند کر دے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ انگلستان کے بنکوں کی ہندوستان کے بنکوں کے ذمہ کوئی رقم نہیں ہوگی- پس جب انگلستان کا روپیہ ہندوستان میں نہ ہوگا تو وہاں کے لوگ یہاں سے بھی مال خریدنے سے گریز کریں گے- کیونکہ اس صورت میں انہیں بجائے حساب فہمی کے نقد روپیہ ادا کرنا پڑے گا- اور یہ امر ملک کی اقتصادی حالت کے لئے نہایت مضر سمجھا جاتا ہے اور نسبتاً مہنگا پڑتا ہے- پس انگریزی مال کے بائیکاٹ کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ انگلستان نے ہندوستان سے مال