انوارالعلوم (جلد 12) — Page 251
۲۵۱ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ زمینداروں کی مشکلات عارضی مشکلات نہیں ہیں اور کم سے کم ہم اپنے صوبے کے زمینداروں کے متعلق یہ کہہ سکتے ہیں کہ جنگ اور جنگ کے بعد کے چند سالوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے زمینداروں کو کبھی بھی حقیقی خوشحالی نصیب نہیں ہوئی- پس اگر ہم زمینداروں کی حقیقی خوشحالی چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم اس امر پر غور کریں کہ اس تکلیف کے بواعث کیا ہیں اور ان کا علاج کیا ہے؟ اس سال کے معاملے کی تخفیف کا نتیجہ صرف اتنا نکلے گا کہ بہت سے زمیندار اس سال تکلیف سے بچ جائیں گے لیکن قوم کی موت بہرحال بری ہے- اگر کوئی قوم ایک سال کی بجائے دس سال میں تباہ ہو جاتی ہے تو ہم اس پر خوش نہیں ہو سکتے- پس اس سال معاملے یا آبیانہ کی تخفیف اس تباہی سے زمینداروں کو نہیں بچا سکتی جو آہستگی سے لیکن یقینی طور پر ہر سال زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ آ کر انہیں ہلاکت کی طرف پہنچا رہی ہے- زمیندار قرض کی بَلا میں اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے ملک کے زمینداروں کا بیشتر حصہ مقروض ہے اور مقروض بھی اس قدر کہ اس قرض سے بچنے کی ان کے پاس کوئی بھی صورت نہیں اور ہم ہر گز یہ نہیں کہہ سکتے کہ زمینداروں نے یہ قرض صرف شوق کے طور پر بڑھا دیا ہے- میں اسے تسلیم کرتا ہوں کہ زمیندار بوجہ تعلیم کی کمی اور رسوم میں مبتلا ہونے کے قرضہ لینے میں بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں لیکن یہ زمیندار کی کوئی خصوصیت نہیں ہے ہمارا سارا ملک تعلیم میں پیچھے اور رسوم کی بلا میں گرفتار ہے- لیکن باوجود اس کے زمینداروں کے سوا دوسرے طبقے اس قدر مقروض نہیں ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمینداروں کے مقروض ہونے کے بواعث تعلیم کی کمی اور رسوم کی پابندی کے سوا کچھ اور بھی ہیں- اور جب تک ہم تمام اس بات پر غور نہیں کریں گے اور ان کا علاج نہیں کریں گے اس وقت تک زمیندار کبھی بھی ان تکالیف اور دکھوں سے نہیں بچ سکتے جن میں وہ آج کل ہر وقت مبتلا رہتے ہیں- پس میں زمینداروں کی اقتصادی حالت کی خرابی کے متعلق بحث کرتے ہوئے ان تمام ضروری امور کے متعلق روشنی ڈالوں گا جو مستقل طور پر یا عارضی طور پر زمینداروں کی اقتصادی حالت کی خرابی کا موجب ہو رہے ہیں- اور پھر میں وہ علاج بتاؤں گا جس کے ذریعہ سے ہم ان خرابیوں کو پورے طور پر یا ایک حد تک دور کر سکتے ہیں-