انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 239

۲۳۹ خوشنودی کی اس حد تک مجھے ضرورت ہے جس حد تک ہر انسان کی کیونکہ میں سب انسانوں کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور کسی بھائی سے لڑنا پسند نہیں کرتا- باقی مجھے ان سے کوئی غرض نہیں کیونکہ خاندانی لحاظ سے میں ایک ایسے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں کہ جس نے ایک ہزار سال تک دنیا کی تاریخ کو اپنے قبضہ میں رکھا ہے اور وجاہت کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جس قدر جان فدا کرنے والے لوگ میرے ماتحت ہیں ان کا ہزارواں حصہ بھی مہاراجہ صاحب کو حاصل نہیں- پس مہاراجہ صاحب تو کسی وقت میری مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں میں ان کی امداد کا محتاج خدا تعالیٰ کے فضل سے نہیں اور نہ انشاء اللہ ہوں گا- وائسرائے صاحب کی میں قدر کرتا ہوں وہ مجھ سے عمر میں زیادہ ہیں دوسرے وہ نہایت زیرک اور پھر خلیق ہیں تیسرے وہ ہمارے بادشاہ کے نائب ہیں اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جو خواہ اسے بدقسمتی کہہ لو اس امر کا قائل ہوں کہ برٹش امپائر دنیا میں اتحاد کے قیام کی بہت بڑی اہلیت رکھتی ہے اور حضور ملک معظم اس امپائر کی ایک ظاہری علامت ہیں- پس میں ان کے نمائندوں کا احترام نہایت ضروری سمجھتا ہوں اور خواہ ذاتی طور پر ان سے اختلاف ہو ان کے ادب و احترام کو ایک اخلاقی اور سیاسی فرض خیال کرتا ہوں لیکن مجھے ان کی خوشنودی کی بھی کوئی پروا نہیں- اگر میں اپنا فرض ادا کر دوں اور ان کا مناسب ادب کروں ان کے ساتھ جائز حد تک تعاون کروں اور اس کے باوجود بعض قومی کاموں کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہوں تو میں ایک ذرہ بھر بھی ان کی اس ناراضگی کی پرواہ نہیں کروں گا بلکہ ان پر رحم کروں گا کہ وہ اپنے ذاتی خیالات کو قومی مفاد پر قربان کرتے ہیں- مگر اس وقت تک مجھے اس کا تجربہ نہیں ہوا- کشمیر کے بارہ میں مجھے حکومت سے اختلاف ہوا بعض دیرنہ دوست ناراض ہیں لیکن مجھے اس کی پروا نہیں- میں جانتا ہوں وہ ایک دن شرمندہ ہوں گے اور میری اخلاقی برتری کو تسلیم کریں گے اور اگر زمانہ ان کے ناجائز رنج کو دور نہ کر سکے تو میں سمجھوں گا کہ وہ میرے احترام کے مستحق نہ تھے- یہ تو حکومت کے متعلق ہے اب میں اہل کشمیر کو لیتا ہوں- میں اپنے ان بھائیوں سے بھی صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا ان سے تعلق اخلاقی ہے- جب تک وہ مظلوم ہیں میں اپنا پورا زور ان کی تائید میں خرچ کروں گا- لیکن اگر انہوں نے ایسی راہ اختیار کیا جو اخلاقاً درست نہ ہو گا تو میں اس وقت یقیناً اسی کی تائید کروں گا کہ جو حق پر ہوگا- اور انہیں غلطی سے