انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 238

۲۳۸ کامیابی سمجھتے تھے- آج گلینسی رپورٹ ان کی نگاہوں میں حقیر نظر آتی ہے- میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے گلینسی کمیشن کی رپورٹ کو کلی طور پر تسلیم نہیں کیا نہ ارتداد کے مسئلہ پر خاموشی کی ہے نہ جدوجہد بند کرنے کا مشورہ دیا ہے- میرے خط پر ایک نگاہ ڈالنے سے ثابت ہو سکتا ہے کہ میں گلینسی رپورٹ کو ناقص سمجھتا ہوں- ارتداد کے مسئلہ کو اہم اور آئندہ جدوجہد کو ضروری بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ خود مختار حکومتوں میں بھی آزادی کی جدوجہد کا جاری رہنا ضروری ہوتا ہے جس دن یہ جدوجہد بند ہو اسی دن سے غلامی کی روح قوم میں داخل ہونے لگتی ہے اور بظاہر آزاد نظر آنے والی قوم باطن میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے- میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ ہے کہ گلینسی رپورٹ میں بہت سے امور مسلمانوں کے فائدہ کے ہیں- اگر مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں تو بہت بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہ کہ ارتداد کے مسئلہ کے متعلق اور دوسرے امور کے متعلق جو ناقص ہیں ہم جدوجہد جاری رکھیں گے- لیکن جو اچھا کام گلینسی کمیشن نے کیا ہے اس کے بارہ میں ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہئے- اور اس کے ذریعہ سے جو طاقت ہمیں حاصل ہوئی ہے اس سے کام لے کر ترقی کی نئی راہیں نکالنی چاہئیں- اور جدوجہد کو کامیاب بنانے کیلئے حالات کے مطابق اس کی صورت بدل دینی چاہئے- میں نے جو کچھ لکھا اس پر اب تک قائم ہوں اور میرے نزدیک کشمیر کے لوگوں کا اس میں فائدہ ہے- میں نے یہ کام لوگوں کی خوشنودی کیلئے نہیں کیا تھا کہ ان کے اعتراض سے ڈر جاؤں میں نے بلا غرض یہ کام کیا ہے اور بلا غرض ہی اسے جاری رکھنا چاہتا ہوں- اگر میں لوگوں کے اعتراض سے ڈر کر اس بات کو چھوڑ دوں جو میرے نزدیک حق ہے تو میں یقیناً خود غرض ہوں گا اور میرا سب پہلا کام برباد ہو جائے گا- وائسرائے صاحب کو خوش کرنا یا مہاراجہ صاحب کو خوش کرنا کوئی بری بات نہیں- میں مہاراجہ صاحب سے کبھی نہیں ملا اور نہ اس وقت تک خواہش ہے جب تک کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق دباؤ سے نہیں بلکہ دلی رغبت سے غور کرنے کو تیار نہیں- سرہری کشن کول صاحب نے مجھے متواتر مہاراجہ صاحب سے ملنے کی دعوت دی لیکن میں نے نہیں مانا اور یہی اصرار کیا کہ مہاراجہ صاحب مسلمانوں کے حقوق کے متعلق میرے ساتھ گفتگو کرنا چاہیں تو میں مل سکتا ہوں ورنہ نہیں- یہ خط و کتابت میرے پاس محفوظ ہے ان کی