انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 234

۲۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۵ مکرمی ماسٹر محمد الدین صاحب- السلام علیکم ورحمہ اللہ- سید ولی اللہ شاہ صاحب بیمار ہیں اور درد صاحب وائسرائے کے ڈیپوٹیشن کے انتظام میں ہیں- یہ دونوں صاحب کشمیر کا کام کیا کرتے تھے اس لئے ایک ضروری امر کے لئے جس کا پیچھے ڈالنا مصلحت اور ضرورت کے خلاف ہے آپ کو تکلیف دیتا ہوں- تھراراد کا علاقہ (نام پوری طرح حافظہ میں نہیں ہے( جموں کی ریاست کا حصہ ہے اور ٹھیکہ پر پونچھ کو ملا ہوا ہے اس علاقہ کے لوگوں کی حالت ریاست کشمیر سے بھی خراب ہے- پونچھ کے لوگوں کو جو آزادیاں ہیں مثلاً بعض اقوام کو کاہ چرائی معاف ہے اس سے یہ لوگ محروم ہیں کہ تم جموں کے باشندے ہو- جموں میں درختوں وغیرہ کے متعلق جو میر پور کی تحصیل کو آزادی ہے۔۔۔۔۔۔اس سے انہیں محروم رکھا جاتا ہے کہ تم پونچھ کے ماتحت ہو- پھر عجیب بات یہ ہے کہ پونچھ سے مال جموں میں لاتے وقت ریاست پونچھ ان سے کسٹمز وصول کرتی ہے اور جب جموں میں آتے ہیں تو پھر درآمد کا ٹیکس انہیں دینا پڑتا ہے- اس طرح باہر سے لانے والے مال پر پہلے جموں والے اور پھر پونچھ والے کسٹمز لیتے ہیں حالانکہ یہ اصل میں جموں سے وابستہ ہیں اور کسٹم کی چوکیاں پونچھ میں ہونی چاہئے تھیں- جموں کے علاقہ میں مال لانے یا وہاں سے لے جانے پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہونی چاہئے تھی- اس تکلیف سے گھبرا کر ان لوگوں نے پروٹسٹ کیا اور حسب قواعد میرپور جس کے ساتھ اصولاً یہ وابستہ ہیں‘ بعض درخت کاٹے اور بوجہ جموں ریاست کے باشندے ہونے کے ڈیوٹی دینے سے انکار کیا تو موجودہ شورش سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کے فعل کو پونچھ کی حکومت نے سول نافرمانی قرار دیا- حالانکہ انہوں نے حکومت جموں کے جس کے یہ باشندے ہیں قانون نہیں توڑے بلکہ ان پر اس کے مطابق عمل کیا- زیادہ سے زیادہ ان پر دیوانی نالشیں کر کے حکومت کو اپنا حق ثابت کرنا چاہئے تھا-