انوارالعلوم (جلد 12) — Page 235
۲۳۵ پھر ان پر یہ ظلم ہے کہ یہ جموں کے باشندے ہیں وہیں ان کی رشتہ داریاں ہیں لیکن باوجود جموں کے ساتھ وابستہ ہونے کے ان کے مقدمات پونچھ میں سنے جاتے ہیں حالانکہ زمینداری اگر ٹھیکے پر دے دی جائے تو یہ کسی حکومت کو حق نہیں کہ اپنی رعایا کے سول حقوق کسی اور حکومت کو دے دے- یہ بیل گائے نہیں ہیں کہ ان سے ایسا سلوک روا رکھا جائے- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسٹر کالون نے ان لوگوں کو مسٹر جارڈین کے پاس شکایات سنانے کو بھیجا تو انہوں نے انکار کر دیا- اس بناء پر کہ یہ علاقہ جموں میں نہیں پونچھ میں ہے حالانکہ حقیقتاً یہ جموں کا علاقہ ہے- آپ نے ان امور کو مسٹر کالون پر روشن کر کے یہ کوشش کرنی ہے کہ اس ردعمل کو دور کیا جائے- اگر پونچھ کو جموں نے امداد دینی ہے تو روپیہ دے لیں یہ لوگ اپنے فروخت کئے جانے پر راضی نہیں- (۱)ان کے مقدمات جموں کورٹس میں ہوں- (۲)کسٹمز جموں اور اس علاقہ کے درمیان میں نہ ہوں بلکہ پونچھ کی کسٹمز کی چوکیاں ان کے علاقہ کے پرے پونچھ کے علاقہ میں ہوں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ پونچھ کے علاقہ سے ان کے علاقہ میں مال لانے یا وہاں لے جانے پر کسٹمز لی جائیں- (۳)اس وقت جو مقدمات خواہ مخواہ سول نافرمانی کے اٹھائے گئے ہیں محض اس وجہ سے کہ پونچھ دربار اور جموں دربار میں جھگڑا ہے اور یہ لوگ جموں کے ساتھ ہیں ان مقدمات کے سننے کیلئے عارضی طور پر جموں سے جج جائیں اور اپیل جموں کورٹ میں ہو- (۴)کوئی انگریز افسر مسٹر لاتھر یا مسٹر جارڈین یا اور کوئی افسر ریاست کا خواہ انگریز نہ ہو ان امور کی تحقیق کے لئے جائے اور علاقہ کے لوگوں کو سب حالات اور ثبوت اس کے پاس پیش کرنے کی اجازت ہو- سرسری کارروائی نہ ہو- (۵)اس وقت تک مقدمات کی کارروائی ملتوی رہے- مسٹر کالون کے علاوہ ریذیڈنٹ سے بھی ملیں اور اسے یہ وجہ بتائیں کہ چونکہ یہ دو جھگڑا درباروں میں ہے جو دونوں آپ کے ماتحت ہیں اس لئے ہم آپ کے پاس آئے ہیں آپ ان واقعات کو دیکھ لیں کہ ناقابل برداشت ہیں- اس علاقہ میں گویا کوئی بھی حکومت نہیں- یہ اپنے حق کسی سے بھی مانگ نہیں سکتے- نہ ملازمتوں کا راستہ ان کے لئے پوری طرح کھلا ہے-کوشش