انوارالعلوم (جلد 12) — Page 228
۲۲۸ نیک نفسی کا ثبوت دیا ہے- اسی طرح اس رپورٹ کے لکھنے پر مسٹر گلینسی بھی خاص مبارک باد کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے نمائندے بھی کہ انہوں نے رعایا کے حقوق ادا کرنے کی سفارشات کی ہیں خواہ وہ مسلمانوں کے مرض کا پورا علاج نہ بھی ہوں- مسلمان نمائندوں کا شکریہ میں خصوصیت سے اپنے باہمت نوجوان چوہدری غلام عباس صاحب اور دیرینہ قومی کارکن خواجہ غلام احمد صاحب اشائی کو شکریہ کا مستحق سمجھتا ہوں کہ انہوں نے نہایت محنت اور تکلیف برداشت کر کے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو پیش کرنے کی کوشش کی- چوہدری غلام عباس صاحب نے اس نیک کام میں اپنوں اور بیگانوں سے جو برا بھلا سنا ہے‘ میں امید کرتا ہوں کہ ان کے دل پر اس کا کوئی اثر نہیں رہے گا کیونکہ انہوں نے خلوص سے قومی خدمت کی ہے- اور یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی قربانی کو ضائع نہیں کرے گا- اگر موجودہ نسل ان کی قربانی کی داد نہ بھی دے تو بھی آئندہ نسلیں انہیں ضرور دعاؤں سے یاد کریں گی- انشاء اللہ تعالی دوسری گلینسی رپورٹ میں امید کرتا ہوں کہ دوسری گلینسی رپورٹ ایک نیا دروازہ سیاسی میدان کا مسلمانوں کے لئے کھول دے گی- اور گو وہ بھی یقیناً مسلمانوں کی پورے طور پر داد رسی کرنے والی نہ ہوگی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی ان کی زندگی کے نقطہ نگاہ کو بدلنے والی اور آئندہ منزل کی طرف ایک صحیح قدم ہاں مگر ایک چھوٹا قدم ہوگی- ابھی بڑا کام باقی ہے میں اس وقت نہ تو یہ کہتا ہوں کہ ہمیں ان رپورٹوں پر افسوس کرنا چاہئے کیونکہ ان میں یقیناً اچھے امور ہیں اور ایسی باتیں ہیں کہ اگر انہیں صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یقیناً مسلمان آزادی حاصل کرنے کے قریب ہو جائیں گے اور نہ ہی یہ کہتا ہوں کہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کیونکہ ابھی ہمارا بہت سا کام پڑا ہے اور اسے پورا کئے بغیر ہم دم نہیں لے سکتے- نیز ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف قانون سے ہم خوش نہیں ہوسکتے کیونکہ قانون کا غلط استعمال اچھے قانون کو بھی خراب کر دیتا ہے- پس دیکھنا یہ ہے کہ ان فیصلہ جات پر مہاراجہ صاحب کی حکومت عمل کس طرح کرتی ہے- ہمیں امید ہے کہ اب جب کہ انگریز وزراء آ گئے ہیں اور انہوں نے ایک حد تک حقیقت کو بھی سمجھ لیا ہے پہلے کی نسبت اچھی طرح ان اصلاحات پر عمل ہوگا- لیکن غیب کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اس لئے