انوارالعلوم (جلد 12) — Page 218
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۱۸ تحریک آزادی کشمیر أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ اہلِ جموں و کشمیر کی طرف میرا پانچواں خط (سلسله دوم) برادران! میرے گذشتہ خط کے بعد بعض حالات میرے علم میں ایسے آئے ہیں کہ جن کی وجہ سے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض امور کی تشریح جس قدر جلد ہو سکے کردوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جموں میں یہ بات مشہور کی جا رہی ہے کہ سر ظفر علی خان صاحب کو میں نے کوشش کر کے نکلوایا ہے اور میری غرض یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ان کی جگہ وزیر مقرر کرواؤں۔ مجھے افسوس سے یہ معلوم ہوا کہ بعض ذمہ دار لیڈروں نے بھی اس خیال کا اظہار کیا ہے اور عوام الناس میں بھی اس بات کا چرچا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ جس اخلاص اور محبت سے میں نے اہلِ کشمیر کا کام کیا تھا اس کے بعد اس قسم کی بد خلنیاں پیدا نہ ہو سکیں گی، لیکن افسوس کہ میرا یہ خیال غلط نکلا۔ اگر محض اختلاف رائے ہوتا تو میں بالکل پرواہ نہ کرتا لیکن اس الزام میں میری نیت اور دیانت پر چونکہ حملہ کیا گیا ہے میں اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں لیکن پھر بھی نام نہ لوں گا تاکہ دوسروں کی بدنامی کا موجب نہ ہو۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ سر ظفر علی صاحب کے کشمیر پہنچنے کے معا بعد بعض نمائند گانِ کشمیر نے مجھے ایسے واقعات لکھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ سر ظفر علی صاحب مسلمانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے اور ایک واقعہ میر واعظ یوسف شاہ صاحب کے ساتھ ان کے سلوک کا خاص