انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 219

۲۱۹ طور پر بیان کیا گیا تھا اس پر میں نے ولایت تار دیئے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں اور ہمدردوں نے وہاں کوشش کی اور بعض ذمہ وار حکام نے بتایا کہ احرار کی تحریک کے کمزور ہوتے ہی سر ہری کشن کول اور مرزا سر ظفر علی صاحب کو کشمیر سے علیحدہ کر دیا جائے گا- یہ غالباً اکتوبر کا واقعہ ہے اس واقعہ سے معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اخراج کی تحریک خود کشمیر سے ہوئی اور اکتوبر میں اس کا فیصلہ بھی درحقیقت ہو چکا تھا- گو خاص حالات کی وجہ سے اس پر عمل بعد میں ہوا- پس اس کا الزام مجھ پر لگانا درست نہیں- باقی رہا یہ الزام کہ میں نے یہ کوشش عزیز مکرم چوہدری ظفراللہ خان صاحب کو وزیر بنانے کے لئے کی ہے- اس کا جواب میں یہی دے سکتا ہوں کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا میرے دل میں بہت احترام ہے لیکن مجھے یہ معلوم بھی ہو جائے کہ وہ کشمیر کی وزارت کی خواہش رکھتے ہیں تو میری رائے ان کی نسبت بدل جائے کیونکہ میں ان کو اس سے بہت بڑے کاموں کا اہل سمجھتا ہوں- پس اس وجہ سے اس عہدہ کو ان کی ترقی کا نہیں بلکہ ان کے تنزل کا موجب سمجھوں گا- علاوہ ازیں کشمیر کے وزیر کی تنخواہ غالباً تین ہزار کے قریب ہے لیکن چوہدری ظفراللہ خان صاحب- اس وقت بھی چار اور پانچ ہزار کے درمیان حکومت ہند سے وصول کر رہے ہیں- پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ زیادہ آمد والے کام سے ہٹا کر میں انہیں ایک تھوڑی تنخواہ والے کام پر لگنے کا مشورہ دوں خصوصاً جبکہ اس میں کوئی مزید ترقی اور مزید عزت کا بھی سوال نہیں- پس جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے ان کی عقل ویسی ہی ہے جیسی کہ اس فقیر کی جس نے ایک ڈپٹی کو خوش ہو کر دعا دی تھی کہ خدا تعالیٰ تجھے تھانے دار بنائے- کاش وہ بدظنی کر کے گنہگار نہ بنتے اور سمجھ سے کام لیتے اور سوچتے کہ عزیزم ظفراللہ خان صاحب وزارت کشمیر سے زیادہ اہم کام کر رہے ہیں اور اس سے بہت زیادہ ترقی کے سامان ان کے لئے خدا تعالیٰ کے محض فضل سے میسر ہیں- دوسرا اعتراض مجھ پر یہ کیا گیا ہے کہ میں نے کوشش کر کے انگریزوں کو ریاست میں داخل کیا ہے--- انگریزوں کے داخلہ کا واقعہ بھی اس طرح ہے کہ جب کشمیر میں شورش زیادہ ہوئی اور مجھے یہ آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ انگریز کشمیر میں گھس جائیں تو اچھا ہے تو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط شیخ عبداللہ صاحب ایم-ایس-سی لیڈر کشمیر کو لکھا اور رجسٹری کر کے بھیجا کہ انگریز افسروں کا آنا مفید نہیں مضر ہو گا‘ اس لئے آپ لوگ اس قسم کا مطالبہ ہرگز نہ