انوارالعلوم (جلد 12) — Page 213
۲۱۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں کی طرف سے ایک اہم علان برادران! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا کام ایک ٹھوس کام ہے- اس کمیٹی نے اس وقت ہندوستان میں کشمیر سے دلچسپی پیدا کرا دی جبکہ پنجاب سے باہر کے لوگ اس مسئلہ کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھے- اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ انگلستان‘ امریکہ‘ شام‘ مصر‘ جاواسماٹرا وغیرہ ممالک میں بھی لوگوں کو کشمیر کے مسلمانوں کی حالت سے واقف کر کے ان سے ہمدردی کا مادہ پیدا کیا اور ریاست کو اس کی اصلی صورت میں ظاہر کیا- پھر کشمیر کمیٹی نے وزارت برطانیہ اور حکومت ہند کو متواتر حقیقت حال سے آگاہ کر کے اور ممبران پارلیمنٹ میں ایجی ٹیشن پیدا کر کے اس امر میں دلچسپی لینے کے لئے آمادہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست اب مسلمانوں کو حقوق دینے پر آمادہ ہے- کشمیر کے تختہ مشق مظلوموں کی مالی امداد‘انہیں صحیح مشورہ‘ طبیامداد‘ علمی امداد اور ہر قسم کی ضروری امداد کا انتظام کیا اور کر رہی ہے- لیکن بعض لوگ بعد میں آ کر اس کام کو اپنی طرف منسوب کرنا چاہتے ہیں- مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ کوئی اور بھی یہ کام کرے بلکہ خوشی ہے اور نہ اس پر اعتراض ہے کہ کوئی اپنے طریق کو بہتر قرار دے- لیکن یہ امر ضرور قابل اعتراض ہے کہ کہا جاتا ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی احمدیوں یا قادیانیوں کی تحریک ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا صدر احمدی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اتنے ممبروں میں سے صرف تین احمدی ہیں جن میں سے دو قادیان اور ایک صاحب لاہور کے مرکز سے تعلق رکھتے ہیں باقی سب حنفی یا اہلحدیث ہیں- چنانچہ اہلحدیث کی انجمن کے ناظم مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی‘ علماء میں سے مولانا سید میرک شاہ صاحب اور مولانا مظہر علی