انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 203

۲۰۳ کے لئے وہ اپنے ایجنٹ مقرر کر رہی ہے- (۲)دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ریاست لوگوں پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ مسٹر عبداللہ لیڈر کشمیر کی پارٹی کمزور اور تھوڑی ہے اور ان کے مخالف زور پر ہیں- ریاست کے ہاتھ میں فوج ہے اور حکومت ہے- وہ ظلم کے ساتھ ایک ہی قانون کو دو طرح استعمال کر سکتی ہے- لیکن اللہتعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے اور ہم بغیر فساد پیدا کرنے کے اس کی تجویز کو رد کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ریاست نے جلسوں سے تو آپ لوگوں کو روک دیا ہے لیکن وہ لباس پر تو کوئی پابندی نہیں لگا سکتی اس لئے میرے نزدیک آپ لوگ لباس کے ذریعہ سے اپنے خیالات کو ظاہر کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ جس قدر لوگ مسٹر عبداللہ کے ہم خیال ہیں اور امن پسندی کے ساتھ اپنے حق لینا چاہتے ہیں اور سول نافرمانی کے حامی نہیں وہ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے کہ مسٹر عبداللہ اور دوسرے لیڈروں کی قید سے انہیں تکلیف ہے اور دوسرے اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ بہرحال پرامن ذریعہ سے اپنے حقوق طلب کریں گے اور ریاست کے حکام کو جوش دلانے کے باوجود اپنے طریق کو نہیں چھوڑ دیں گے اپنے بازو پر ایک سیاہ رنگ کا چھوٹا سا کپڑا باندھ لیں یا اپنے سینہ پر ایک سیاہ نشان لٹکا لیں-ایسے نشان سے بغیر ایک لفظ منہ سے نکالنے کے‘ بغیر تقریر کرنے کے‘ بغیر جلوس نکالنے کے‘ آپ حکومت اور دوسرے لوگوں کو بتا سکیں گے کہ آپ مسٹر عبداللہ کے ہم خیال ہیں- اگر یہ تحریک ہر جگہ کے لیڈر کامیاب کر سکیں اور ملک کے ہر گوشہ میں ہر شخص خواہ مرد ہو‘ خواہ عورت‘ خواہ بچہ اس سیاہ نشان کا حامل ہو تو آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ بغیر جلسوں اور جلوس کے آپ لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار ہوتا رہے گا کہ ایک طرف تو آپ لوگ مسٹر عبداللہ کی قید پر احتجاج کرتے ہیں اور دوسری طرف ریاست کے ان ایجنٹوں کی پالیسی کے خلاف اظہار رائے کرتے ہیں جو اندر سے تو ریاست سے ملے ہوئے ہیں اور بظاہر کامل آزادی کا مظاہرہ پیش کر کے تحریک کو کچلنا چاہتے ہیں- اگر مختلف علاقوں کے لیڈر اس تحریک کو جاری کریں تو آپ لوگ دیکھیں گے کہ تھوڑے ہی دنوں میں ریاست اور اس کے ایجنٹ مرعوب ہونے لگیں گے- اور ہر راہ چلتے آدمی کو معلوم ہو جائے گا کہ کشمیر کا بچہ بچہ شیر کشمیر اور دوسری لیڈروں کے ساتھ ہے اور یہ کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ حقوق کا مطالبہ صرف چند لوگوں کی طرف سے ہے یایہ کہ ریاست کشمیر کے لوگ فساد کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں- اس تحریک میں سب اہل کشمیر شامل ہیں اور وہ باغی نہیں بلکہ