انوارالعلوم (جلد 12) — Page 202
۲۰۲ ان شکایت کو رکھ سکیں- اس معاملہ میں سستی ہوئی تو بعد میں پچھتانا پڑے گا کیونکہ ایسے کمیشن روز روز نہیں بیٹھا کرتے- مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ آپ لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ اس کمیشن سے تعاون کا کوئی فائدہ نہ ہو گا لیکن یاد رکھیں کہ آپ کے لیڈر شیخ عبداللہ صاحب اور دوسرے سب آپ کے خیر خواہوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ اس کمیشن سے تعاون کیا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کمیشن سے تعاون مفید ہو گا- پہلا فائدہ تو یہی ہے کہ اس کمیشن کی بدولت پریس اور تقریر اور انجمنوں کی آزادی کا سوال پیش ہو چکا ہے اور تھوڑے دنوں میں اس کے متعلق کارروائی شروع ہو جائے گی اس کے علاوہ بھی امید ہے کہ اور بہت سے فوائد انشاء اللہ حاصل ہوں گے اور جن امور میں اس کمیشن کی رپورٹ نامکمل یا غلط ہوئی ہمارے لئے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا پھر بھی راستہ کھلا ہے- علاوہ ازیں اس وقت یہ کمیشن ایک طرح روک بن رہا ہے- جب انگریزی حکومت کو توجہ دلائی جاتی ہے تو اس کے ذمہ وار حکام کہتے ہیں کہ مہاراجہ صاحب ایک کمیشن بٹھا چکے ہیں پس اس کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے- پس ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے جلد اس کمیشن کا کام ختم کرائیں اور پوری کوشش کریں کہ اس کمیشن کی کارروائی اس رنگ میں تکمیل کو پہنچے کہ کمیشن مجبور ہو کہ کاغذات کی بناء پر مسلمانوں کے حق میں رپورٹ کرے- دوسرا ضروری امر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریاست نے اس وقت پرامن لوگوں کے جلسے اور جلوس روک رکھے ہیں- سول نافرمانی کے پروگرام والوں اور ہندوؤں کے جلسے اور جلوس کھلے ہیں جیسا کہ گذشتہ دنوں میں احرار کا جلوس نکلا اور اس میں احرار زندہ باد اور قادیانی مردہ باد کے نعرے لگائے گئے- کسی کے مردہ باد کہنے سے ہم مر نہیں جاتے پس میں تو کہتا ہوں کہ اگر ہمیں مردہ باد کہہ کر کسی کا دل خوش ہوتا ہو تو چلو یہ بھی ایک ہماری خدمت ہے وہ اسی طرح اپنا دل خوش کر لیں- ہم بھی خوش ہیں کہ ہمارے ایک بھائی کا دل اس طرح خوش ہو گیا- مگر ایک سبق ہمیں ان جلسوں اور جلوسوں سے ملتا ہے اور وہ یہ کہ ریاست کا ان لوگوں کو جلسوں اور جلسوں کی اجازت دینا صاف بتاتا ہے کہ ریاست کے لئے اس میں فائدے ہیں اور وہ فائدے میرے نزدیک دو ہیں- (۱)اول فائدہ یہ ہے کہ ریاست اس طرح حکومت انگریزی کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ ریاست کے مسلمان باغی ہو گئے ہیں اور اس غرض کو پورا کرنے