انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 197

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۹۷ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مسلمان لیڈران کشمیر کی گرفتاری پر وائسرائے ہند کو تار قادیان ۲۷ جنوری ۱۹۳۲ء۔ پورا ایکسیلنسی کے یقین دلانے پر مجھے اطمینان ہو گیا تھا کہ کشمیر کے مسلمانوں کی شکایات دور کر دی جائیں گی اور کہ ریاست اپنی متشددانہ پالیسی ترک کر دے گی۔ یہ اطمینان دلائے جانے پر میں نے ریاست کے اندر اور باہر اس امر کے لئے پوری پوری کوشش کی کہ مسلمان پر امن رہیں اور گلینسی اور ڈلٹن کمیشنوں، نیز مسٹر جنکنز اور مسٹر لا تھر سے تعاون کریں اس لئے میں بالکل خاموش تھا اور سری نگر و جموں کے نمائندگان کو بھی پُر امن رکھنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ کشمیر کے مشہور و معروف رہنما مسٹر عبد اللہ اور موچھ کے مفتی ضیاء الدین صاحب اس پر امن کام میں ہمارے ممدو معاون تھے ۔ اس وقت بھی سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی بعض دوسرے مقتدر راہنماؤں کے ساتھ جموں میں اس امر کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست اور علاقہ میر پور کے مسلمانوں کے درمیان صلح کرا دیں اور سول نافرمانی کی تحریک کو بند کرا دیں۔ لیکن ہماری مصالحانہ مساعی کے باوجود ریاستی حکام مسلمانوں پر انتہائی تشدد میں مصروف رہے اور جلسوں کی ممانعت، پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع کی ممانعت وغیرہ کے لئے ان مقامات پر بھی آرڈیننس جاری کر دیئے گئے جہاں بالکل امن و امان تھا۔ اب خبر آئی ہے کہ مفتی ضیاء الدین صاحب کو جبرا حدود ریاست سے نکال دیا گیا ہے اور مسٹر عبد اللہ کو ان کے رفقاء سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی حکام خود ہی فتنہ انگیزی کرنا چاہتے ہیں تا حکومت برطانیہ کی ہمدردی حاصل کر سکیں اور مسلمانوں کو برباد کرنے کے لئے بہانہ بنا سکیں۔ اس لئے میں ایک بار پھر پورا ایکسیلنسی سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کر کے حالات کو بد تر صورت اختیار کرنے سے بچالیں اگر یو را یکسیلنسی کیلئے اس میں مداخلت ممکن نہ ہو تو مہربانی فرما کر مجھے اطلاع کرا دیں تا میں مسلمانان کشمیر کو اطلاع دے سکوں کہ اب ان کے