انوارالعلوم (جلد 12) — Page 194
انوار العلوم جلد ۱۳ المالد تحریک آزادی کشمیر یہی کہے کہ ان مطالبات سے زیادہ سخت مطالبات ہونے چاہئیں، اس کی بات کو رد کر دیں اور صاف کہہ دیں کہ مسٹر عبد اللہ کی پیٹھ پیچھے ہم کسی اور کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مجھے اس نصیحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں خود ریاست کا اس میں فائدہ ہے کہ بعض لوگوں سے زیادہ سخت مطالبات پیش کرائے کیونکہ اس سے ایک طرف مسٹر عبد اللہ کی لیڈری میں فرق آتا ہے ، دوسری طرف انگریزوں کو بھڑکانے کا اسے موقع ملتا ہے۔ پس آپ نہ صرف اس خوشامدی سے ہوشیار رہیں جو نقصان کا خوف دلا کر آزادی کی تحریک سے آپ لوگوں کو ہٹانا ۔ ہٹانا چاہے بلکہ اس دوست نما دشمن سے بھی ہوشیار رہیں : آپ کی خیر خواہی کا دعوی کر کے اور سبز باغ دکھا کر آپ کو آپ کے حقیقی لیڈر سے پھرانا چاہتا ہے۔ مجھے اس بات پر زور دینے کی اس لئے بھی ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض لیڈر جو ظاہر میں جو شیلے نظر آتے ہیں مجھے ان کی نسبت یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ ریاست سے روپیہ لیتے ہیں اور مسٹر عبد اللہ کا اثر گھٹانے کے لئے ریاست کی طرف سے مقرر ہیں۔ ار رہیں جو بظاہر یہ امر بھی یاد رکھیں کہ کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ پبلک کی ہمدردی اس کے ساتھ نہ ہو اور پبلک اس کی خاطر اپنی جان دینے کو تیار نہ ہو۔ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے ہزار درجہ اچھی ہوتی ہے۔ پس جہاں میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نفسوں پر قابو رکھیں ، وہاں میں یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ آپ کو اپنے نفسوں کو ملک اور قوم کے لئے قربانی کی خاطر تیار رکھنا چاہئے یہ اور بات ہے کہ آپ اپنے ملک کے فائدہ کیلئے اعتدال کا طریق اختیار کریں اور یہ بات اور ہے کہ آپ اس امر کے لئے تیار ہوں کہ اگر ملک کے لئے جان دینی پڑے گی تو خوشی سے جان دے دیں گے۔ یہ دونوں باتیں جدا جدا ہیں اور اپنی اپنی جگہ دونوں حق ہیں۔ پس چونکہ بالکل ممکن ہے کہ ایسا وقت آجائے کہ بغیر اخلاق یا مذہب کو ہاتھ سے دینے تیار رہنا چاہئے کے آپ کو اپنے ملک کیلئے جان دینی پڑے ، اس لئے اس وقت کیلئے بھی آپ کو تیار ، اور اپنے اندر قربانی کی روح اور بہادری کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کشمیری کو آپ لوگ اس جنگ کیلئے تیار رکھیں جو اس وقت آزادی کے۔ کے لئے آپ لوگ کر رہے ہیں۔ قید ہونا صرف مسٹر عبداللہ کا فرض نہیں، آپ لوگوں کا بھی فرض ہے۔ مسٹر عبد اللہ آسمان سے نہیں گرے ، ان کے بھی ماں باپ بھائی بند بند ہیں۔ ان کا بھی ایک دل اور جسم ہے۔ جس طرح آپ کے قید ہونے پر آ۔ ہونے پر آپ کے عزیزوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اور ایک