انوارالعلوم (جلد 12) — Page 169
۱۶۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے بعض اہم مکتوبات مکتوب نمبر۱: الفیض لاہور- ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۱ء مکرمی درد و غزنوی صاحب- السلام علیکم ورحمہ اللہ- آپ لوگوں کے کام سے نہایت خوش ہوں- اللہ تعالیٰ کامیاب فرمائے- میں نے کل تار دیا تھا کہ بدھ تک کام بند کر دیں- جواب بھی مل گیا ہے- اس عرصہ میں احرار نے اعلان کیا ہے کہ جیون لال کی تار آئی ہے کہ میں آپ لوگوں سے ملنے کے لئے آ رہا ہوں- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکام دو طرفہ چال چل رہے ہیں- میں نے صاف کہہ دیا ہے کہ معاملہ کو صاف کریں- واللہ اعلم کیا بات ہے- ابھی ان کا پیغام آیا ہے کہ یہ بات بھی غلط ہے کہ جیون لال وہاں سے چلے ہیں‘ وہ اب تک وہیں ہیں- کل کی تار کا موجب وزیر اعظم کی تار تھی کہ تقریریں رکوائیں- رات کو یہ سمجھوتہ ہوا تھا کہ میں جاؤں اور میری موجودگی میں نمائندوں سے ریاست فیصلہ کرے اور ابتدائی حقوق کا اعلان کرے اور کمیشن میں مناسب تبدیلی کرے- لیکن جب میں صبح اس غرض سے آدمی بھیجنے والا تھا تو وہ دوست جن کی معرفت کام ہو رہا تھا آئے اور خواہش ظاہر کی کہ مہاراجہ صاحب سردی سے تکلیف میں ہیں‘ وقت لمبا کر دیا جائے وہ جموں تشریف لے آئیں تو آسانی ہوگی- میں نے کہا کہ بغیر اس کے کہ حقوق کا اعلان ہو اور میعاد بڑھانے کو تیار نہیں- جموں ہمارے لئے مضر ہے کہ وہاں ہندوؤں کا زور ہے- انہوں نے کہا کہ وہ کونسے امور ہیں جن کا اعلان ضروری ہے- میں نے وہ امور لکھوا دیئے- اس پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ نہ مانیں- میں نے جواب دیا کہ پھر ریاست سے مقابلہ ہوگا- اور کہا- ہاں وہ تبدیلیاں پیش کریں تو بے شک میں