انوارالعلوم (جلد 12) — Page 137
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۳۷ تحریک آزادی کشمیر ہے جس سے بچنا ہر قوم کے لئے ضروری ہے۔ اور بہت سی اقوام کی تباہی کا موجب اندرونی اختلاف ہی ہوا کرتا ہے لیکن آخری امریعنی دونوں طرف سے ناگوار چھیڑ چھاڑ کا جو ذکر "انقلاب" میں کیا گیا ہے میں اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ "انقلاب" کا یہ مقالہ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ (1) ناگوار چھیڑ چھیڑ چھاڑ کا ذکر الفضل" وغیرہ میں مجلس احرار کے خلاف بعض قابل اعتراض باتیں شائع ہو رہی ہیں۔ (۲) احمدی جماعت کے کسی سر بر آوردہ شخص نے بعض سر کردہ اشخاص کے نام ایک گشتی مراسلت بھیجی ہے کہ مجلس احرار والے کانگرسی مسلمان ہیں کشمیر کے معاملہ میں ان کی کوئی امداد نہ کی جائے ۔ (۳) احرار کے خلاف میرے مداح اور حمایتی حملے کرتے ہیں۔ کسی سرکردہ احمدی نے کوئی گشتی مراسلہ نہیں بھیجا سب سے پہلے میںنمبر ہ کو لتا ہوں۔ اور بتانا چاہتا ہوں کہ یہ امر بالکل خلاف واقعہ ہے کہ کسی سرکردہ احمدی نے ایسا گشتی مراسلہ بھیجا ہے۔ ہمارے سلسلہ کے نظام سے جو شخص ادنیٰ واقفیت بھی رکھتا ہو جانتا ہے کہ ہمارے ہاں سر کردگی گشتی مراسلات بھیجنے کے لئے کافی نہیں۔ صرف اور صرف وہی شخص گشتی مراسلات بھیج سکتا ہے جو سلسلہ کی طرف سے کسی کام پر مقرر ہو اور وہ بھی صرف اپنے محکمہ کے متعلق ۔ وہ محکمے جو مسئلہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں ، امور خارجیہ اور امور عامہ کے ہیں۔ ان محکموں کا کام سیاسی مسائل سے ہے۔ باقی سب محکمے تبلیغ اور جماعت کی تربیت وغیرہ کاموں سے متعلق ہیں۔ ان محکموں کو بھی کشمیر کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ کشمیر کا کام ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے کرتے ہیں نہ کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے لیکن پھر بھی احتیاط کے طور پر میں نے ان دونوں محکموں سے دریافت کیا ہے اور وہ قطعی طور پر کسی ایسی گشتی چٹھی کے بھیجنے سے انکار کرتے ہیں جس کا ذکر "انقلاب" میں ہے۔ اب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا دفتر رہ جاتا ہے۔ میں نے بہ حیثیت صدر اس دفتر سے بھی دریافت کیا ہے اور وہ بھی کسی ایسی گشتی چٹھی کے بھیجنے سے انکار کرتا ہے۔ ہاں بعض لوگوں کے دریافت کرنے پر کہ احرار کے کارکن بیان کرتے ہیں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی ٹوٹ گئی ہے اور کام ہمارے سپرد کر دیا گیا ہے یہ لکھا گیا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔ نہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی ٹوٹ گئی ہے اور نہ اس نے اپنا کام احرار کے سپرد کیا ہے۔ اسی خیالی سرکلر کا ذکر کرتے ہوئے معزز "انقلاب" نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کشمیر کے