انوارالعلوم (جلد 12) — Page 131
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۳۱ تحریک آزادی کشمیر م فرماتے ہیں کہ کبھی خدا تعالی اسلام کی ایک فاسق شخص کے ذریعہ سے مدد کرتا ہے۔ 9 پس یہ باوجود مذہبی مخالفت کے اگر یہی کچھ سمجھ لیتے کہ خدا تعالی ایک دشمن سے کام لے رہا ہے تو ان کا کوئی حرج نہ تھا۔ آخر یہ لوگ گاندھی جیسے کافر کی اتباع بھی تو کر ہی رہے ہیں حالانکہ اس کے عقائد اسلام کے سخت خلاف ہیں۔ اس کی لائف پڑھ کر دیکھو کس طرح شروع سے آخر تک اسلام کی ہتک کی گئی ہے۔ ہندو دھرم کے وہ مسائل جو اسلام کے مقابل ہیں ان میں خاص طور پر اس نے ہندو دھرم کی فضیلت ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے اندر تو انہیں کوئی عیب نظر نہیں آتا لیکن ہمارے ن ہمارے اندر جن کا عقیدہ ہے۔ بعشق بعد از گر کفر ایں عیوب کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ خدا بود بخدا محمد مخترم سخت کا فرم عقائد کا اختلاف سی اور پچاس نہیں پچاس ہزار امور میں اختلاف سی۔ ہر ایک کا حق ہے کہ دوسرے کے عقائد کو غلط سمجھے۔ لیکن اگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ حفی غلطی پر ہیں تو یہ میرا حق نہیں کہ کہہ دوں یہ خدا تعالیٰ کے بھی منکر ہیں۔ یہ بدترین قسم کی بد دیانتی ہے۔ انگریزی میں ایک مثل مشہور ہے Give the devil his due یعنی شیطان کو بھی اس کا حق ملنا چاہئے۔ جب ہمارا دعوی ہے کہ ہم رسول کریم میم کے خاد خادم ہیں تو خواہ ہمیں غلطی پر سمجھا جائے لیکن اتنا تو ماننا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف غلط باتیں تو منسوب نہیں کرنی چاہئیں۔ الله مولوی میرک شاہ صاحب جانتے ہیں کہ کشمیر میں احمدیوں کی تعداد سو میں سے ایک بھی نہیں لیکن یہاں تک مشہور کیا گیا ہے کہ میں وہاں کی بادشاہت حاصل کرنی چاہتا ہوں بلکہ تاج بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ جو رعایا راجہ کو نکالے گی وہ ہمیں کس طرح بادشاہ بنا لے گی۔ یہ تو ممکن ہے کہ مولانا انور شاہ صاحب یا میر واعظ شاہ صاحب یا مولوی میرک شاہ صاحب کو بنائے لیکن ہم میں سے کسی کے بننے کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔ یہ سب جوش پیدا کرنے والی اور خلاف عقل باتیں ہیں۔ کشمیر ایجی ٹیشن ایک سیاسی کام ہے مسلمان یا غیر مسلمان کا سوال نہیں۔ جب انسان ایک گدھے کو مارتا ہے اور ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے اپنے جیسے انسان کو بد ترین مصیبت میں دیکھ کر کچھ احساس نہ ہو۔ میں نے