انوارالعلوم (جلد 12) — Page 110
۱۱۰ کہ ان صاحبان سے بوجہ ناتجربہ کاری غلطی ہوئی- یہ مطلب نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ریاست کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے- پس میں سب لوگوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ بجائے ان سے لڑنے یا تفرقہ پیدا کرنے‘ وہ اب یہ کوشش کریں کہ جو غلطی ہو گئی ہے‘ اس کے بدنتائج سے جس قدر ہو سکے بچا جائے- اور نمائندگان کو بھی چاہئے کہ وہ آئندہ زیادہ احتیاط سے کام لیا کریں اور ہر چمکتی ہوئی چیز کو سونا سمجھنے سے پرہیز کریں- نمائندگان کی غلطی ،اپنی شرکت میں یہ بات بھی بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس غلطی میں کسی حد تک میں بھی شریک ہوں اور وہ اس طرح کہ مجھے شملہ میں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ بعض لوگ مہاراجہ صاحب کشمیر کو تاریں دے رہے ہیں کہ اگر ہمیں اجازت دیں‘ تو ہم آ کر کشمیر کی شورش کو دور کر سکتے ہیں چنانچہ ایک تار اس مطلب کی ڈیویکو کے چائیخانہ میں گورنمنٹ کالج کے ایک پروفیسر سے لکھوائی گئی- اتفاقا ان پروفیسر صاحب کے میزبان ایک کلکٹر صاحب تھے جو اپنے مہمان کے دیر تک غیر حاضر رہنے کی وجہ سے کسی حاجت کے پورا کرنے کے لئے اٹھے اور چلتے ہوئے ان کی نظر اس تار پر پڑ گئی اور انہوں نے مجھے بتا دیا- اگر میں اسی وقت اخبارات میں اس واقعہ کو شائع کر دیتا تو شاید یہ صورت حالات پیدا نہ ہوتی- مگر میں نے تفرقہ کے خوف سے اس ذکر کو اخبارات میں لانا مناسب نہ سمجھا اور نتیجہ یہ ہوا جو نظر آ رہا ہے- سب سے بڑی غلطی سب سے پہلی غلطی جو درحقیقت باقی سب غلطیوں کا موجب ہوئی ہے یہ ہے کہ نمائندگان نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے مشورہ نہیں کیا- اگر وہ ایسا کرتے تو جن امور کا انہیں تجربہ تھا‘ ان میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی انہیں مشورہ دے سکتی تھی- میرا یہ منشاء نہیں کہ کشمیر کے نمائندے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی رائے کے پابند ہوتے کیونکہ اصل معاملہ ریاست اور رعایا کے درمیان ہے- ہم لوگ تو صرف بلوانے پر آئے ہیں پس ہمارا یہ حق نہیں کہ اہل کشمیر سے یہ مطالبہ کر سکیں کہ ہم جو کہیں وہ مانو لیکن اتنا حق ہمارا ضرور قائم ہو چکا ہے کہ ہم سے مشورہ کر لیا جایا کرے کیونکہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خود اہالیان کشمیر کے خطوط اور زبانی شکایات کی بناء پر مسئلہ کشمیر کو ہم نے ہاتھ میں لیا ہے- اور باتوں کو جانے دیا جائے صرف کشمیر ڈے پر ہی ہندوستان میں قریباً پچاس ہزار روپیہ کا خرچ ہوا ہے کیونکہ ہزاروں جگہوں پر کشمیر ڈے منایا گیا ہے- اور بعض بڑے بڑے شہروں میں اس دن