انوارالعلوم (جلد 12) — Page 111
۱۱۱ پانچ پانچ‘ چھ چھ سو روپیہ خرچ ہوا ہے- اس کے علاوہ ہندوستان اور انگلستان میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا ہے- اور بعض لوگوں نے اس کام میں دخل دینے کی وجہ سے اپنی پوزیشن کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے- غرض وقت‘ عزت اور مال کی قربانی چاہتی تھی کہ ہمارے کشمیر کے بھائی آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے مشورے لیتے خواہ اسے قبول نہ کرتے کیونکہ عقلاً اور اخلاقا کوئی باہر کا آدمی انہیں اپنے مشورہ کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور اگر وہ ایسا کرتے تو ضرور ان نقائص سے بچ جاتے جو موجودہ معاہدہ میں رہ گئے ہیں- اب میں اصل معاہدہ کو لیتا ہوں‘ اس میں مندرجہ ذیل غلطیاں ہوئی ہیں- مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست نے وعدہ نہیں کیا ۱ - معاہدہ میں مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست کی طرف سے ایک لفظ بھی درج نہیں ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم نمائندگان کی طرف سے جو شرائط ہیں ان میں یہ ذکر ہے کہ-: ‘’وہ ہمارے ان مطالبات کے فیصلہ تک جو ہماری طرف سے آئندہ پیش ہوں کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ جو پرامن فضاء کو خراب کر کے مطالبات پر ہمدردانہ غور میں مشکلات پیدا کر دے’‘- (ترجمہ از اعلان ریاست) لیکن ریاست کی طرف سے جن امور کا اعلان ہوا ہے اس میں ایک لفظ بھی اس بارہ میں نہیں ہے کہ آیا ریاست مسلمانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں ہے- یہ امر بالکل واضح ہے کہ مسلم نمائندگان کے بیان کی ریاست پابند نہیں اس کے پابند صرف وہی ہیں ریاست پابند انہی باتوں کی ہو سکتی ہے جن کا وہ خود وعدہ کرے- پس اس معاہدہ کے رو سے اگر ریاست مسلمانوں کے مطالبات پر غور کرنے سے انکار کر دے یا غور کر کے ان کو پوری طرح رد کر دے تو اخلاقا ریاست پر کوئی حرف نہیں آتا- وہ معاہدہ کو سامنے رکھ دے گی کہ بتاؤ کہاں ہم نے مطالبات پر غور کرنے کا یا کوئی حق دینے کا وعدہ کیا تھا- اس صورت میں مسلمانوں کی گزشتہ قربانی بالکل ضائع ہو جائے گی- ہر اک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حقوق کے سوال میں فیصلہ اس شخص کے وعدہ سے ہوتا ہے جس نے کچھ دینا ہو نہ اس شخص کے قول سے جس نے لینا ہو- زید نے بکر سے اگر کچھ روپیہ لینا ہو تو زید کے یہ کہہ دینے سے کہ میں روپیہ لوں گا فیصلہ نہیں ہو سکتا- ہاں بکر جس نے دینا ہے